مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے تناظر میں ایسے قانونی حفاظتی اقدامات کی حمایت کی ہے جو صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں کی رضاکارانہ خود ضابطہ کاری پر منحصر نہ ہوں۔ 27 ستمبر کو نشر ہونے والے NBC کے پروگرام “Meet the Press” کے ایک ریکارڈ شدہ انٹرویو میں گیٹس نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیاسی قیادت کو یہ طے کرنے کے عمل میں شامل ہونا چاہیے کہ AI نظاموں کے لیے نگرانی اور حفاظتی تقاضے کس طرح لازم کیے جائیں۔

گیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت تعلیم، صحت، تحقیق اور پیداواری صلاحیت میں بڑے فوائد دے سکتی ہے، لیکن اس کے غلط استعمال، فراڈ، نقصان دہ خودکار فیصلوں اور بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل اثرات سے متعلق خطرات بھی موجود ہیں۔ انہوں نے اس خیال کی مخالفت کی کہ ٹیک کمپنیاں خود ہی تمام قواعد طے کریں اور حکومت صرف بعد میں مداخلت کرے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض حفاظتی معیارات کو قانونی طور پر لازم ہونا چاہیے تاکہ تمام بڑے آپریٹرز پر یکساں بنیادی ذمہ داریاں عائد ہوں۔

انٹرویو میں گیٹس نے کسی ایک جامع بل یا تیار شدہ قانونی مسودے کی توثیق نہیں کی بلکہ اصولی طور پر کانگریس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ریگولیٹری حکام کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیے ان کے بیان کو کسی مخصوص امریکی قانون کے منظور ہونے یا فوری نئی پابندی کے اعلان کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ امریکا میں AI ضابطہ کاری پر وفاقی اور ریاستی سطح پر مختلف تجاویز زیر بحث رہتی ہیں، اور ان کے دائرہ کار پر ٹیکنالوجی کمپنیوں، سول سوسائٹی، قانون سازوں اور ماہرین کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

بحث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ حفاظتی قواعد جدت کو غیر ضروری طور پر محدود کیے بغیر خطرات کو کیسے کم کریں۔ سخت قواعد کے حامی شفافیت، ذمہ داری، سکیورٹی ٹیسٹنگ اور نقصان کے ازالے کے واضح طریقہ کار پر زور دیتے ہیں، جبکہ بعض صنعت نمائندے متنبہ کرتے ہیں کہ بہت وسیع یا غیر واضح ضابطے تحقیق اور نئی کمپنیوں کے لیے رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ گیٹس کا بیان اس وسیع پالیسی بحث میں حکومتی کردار بڑھانے کی حمایت کرتا ہے، لیکن حتمی قانون سازی امریکی سیاسی اور قانونی عمل سے ہی طے ہوگی۔

AI سے متعلق عالمی پالیسی بحث اب صرف ماڈلز کی تکنیکی صلاحیت تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیٹا تحفظ، سائبر سکیورٹی، غلط معلومات، خودکار ہتھیار، روزگار اور صارفین کے حقوق جیسے موضوعات تک پھیل چکی ہے۔ گیٹس کے تازہ بیان کی عملی اہمیت اسی پس منظر میں ہے کہ ٹیکنالوجی شعبے کی ایک نمایاں شخصیت نے واضح طور پر کہا ہے کہ لازمی قواعد اور بیرونی نگرانی کو رضاکارانہ صنعتی وعدوں کا متبادل نہیں بلکہ ضروری تکمیل سمجھا جانا چاہیے۔