صوفیہ: بلغاریہ کے صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں ایلیانا یوتووا نے کامیابی حاصل کر لی ہے اور وہ ملک کی پہلی خاتون صدر منتخب ہو گئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق تقریباً مکمل نتائج نے یوتووا کی فتح کی تصدیق کی، جس سے بلغاریہ کی قومی سیاست میں ایک اہم علامتی اور سیاسی تبدیلی سامنے آئی ہے۔

یوتووا اس سے قبل نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں اور وزیر اعظم رومین رادیف کی سیاسی اتحادی سمجھی جاتی ہیں۔ انتخابی نتیجہ ایسے وقت آیا ہے جب بلغاریہ میں حکومت سازی، یورپی پالیسی، معاشی دباؤ اور ادارہ جاتی استحکام کے سوالات سیاسی بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

صدارتی رن آف میں ووٹرز نے دو امیدواروں کے درمیان فیصلہ کیا۔ حتمی سرکاری اعداد و شمار کے مکمل اجرا کے باوجود دستیاب قریباً مکمل نتائج میں یوتووا کی برتری فیصلہ کن رہی۔ اس لیے ان کی کامیابی کو انتخابی نتیجے کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے، تاہم عہدہ سنبھالنے سے متعلق آئینی اور انتظامی مراحل ملکی قوانین کے مطابق مکمل ہوں گے۔

بلغاریہ میں صدر کا منصب روزمرہ حکومتی انتظام کے بجائے آئینی، خارجہ اور قومی سلامتی کے بعض اہم معاملات میں نمایاں کردار رکھتا ہے۔ حالیہ برسوں میں بار بار انتخابات اور سیاسی تقسیم کے باعث صدارتی ادارے کی سیاسی اہمیت بھی زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ یوتووا کی کامیابی اس پس منظر میں نئی حکومت اور پارلیمانی قوتوں کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے لیے اہم ہوگی۔

یوتووا کی فتح کا ایک تاریخی پہلو یہ ہے کہ بلغاریہ کی صدارت پہلی مرتبہ کسی خاتون کے پاس منتخب مینڈیٹ کے ساتھ جائے گی۔ یورپی یونین کے رکن اس ملک میں خواتین پہلے بھی اعلیٰ حکومتی اور پارلیمانی عہدوں پر رہی ہیں، مگر صدارتی منصب پر یہ پیش رفت الگ اہمیت رکھتی ہے۔

انتخابی نتیجے کے بعد توجہ اب نئی صدر کی پالیسی ترجیحات، حکومت کے ساتھ ان کے تعلق اور یورپی و علاقائی امور پر بلغاریہ کے آئندہ مؤقف پر مرکوز ہوگی۔ کسی بھی نئی پالیسی سمت کا حتمی اندازہ یوتووا کے عہدہ سنبھالنے اور ان کے ابتدائی سرکاری اقدامات کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔