پیرس: فرانس میں دو ہفتوں کی تعلیمی تعطیلات کے بعد ہائی اسکول طلبہ کے احتجاج دوبارہ شروع ہوگئے ہیں، تاہم پیر کو ان کا دائرہ گزشتہ ہفتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر محدود رہا۔ فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق پیرس، مارسی اور رین میں چند اسکولوں کے باہر طلبہ نے داخلی راستے بند کرنے یا کلاسوں کا بائیکاٹ کرنے کی کوشش کی۔
ایکسپریس ٹریبیون میں شائع رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تعطیلات سے قبل ملک کے تین ہزار سے زیادہ ہائی اسکولوں میں سے سینکڑوں کسی نہ کسی مرحلے پر احتجاجی ناکہ بندیوں سے متاثر ہوئے تھے۔ یہ تحریک ستمبر میں پیرس کے مضافاتی علاقوں سے شروع ہوئی اور بعد میں تعلیم سے متعلق مطالبات کے ساتھ مہنگائی اور زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات جیسے وسیع تر مسائل بھی اس میں شامل ہوگئے۔
فرانسیسی وزیر تعلیم ایڈوار ژیفرے نے پیر کو کہا کہ موجودہ ناکہ بندیوں کا پیمانہ بہت محدود ہے اور صرف چند انفرادی اسکول متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کو احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن دوسروں کو اسکول میں داخل ہونے سے روکنا قانون کے مطابق جائز نہیں۔ ٹی وی فوٹیج میں پولیس کی موجودگی دکھائی گئی، تاہم اہلکار مکمل انسدادِ ہنگامہ آرائی سازوسامان میں نہیں تھے۔
طلبہ تنظیمیں پرانی اور خستہ حال اسکول عمارتوں کی مرمت، مزید اساتذہ کی بھرتی، اعلیٰ تعلیم میں زیادہ نشستوں اور یونیورسٹی داخلے کے موجودہ نظام میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے کلاسوں میں طلبہ کی تعداد 28 تک محدود کرنے، اسکولوں کی مرمت کے لیے چار ارب یورو مختص کرنے، اعلیٰ تعلیم میں 15 ہزار نئی نشستیں بنانے اور 2028 تک نیا داخلہ نظام متعارف کرانے کی پیشکش کی تھی۔
طلبہ نمائندوں نے ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ ماہ بعض مظاہرے پرتشدد جھڑپوں میں تبدیل ہوگئے تھے اور کئی شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا، جس سے صدر ایمانوئل میکرون کی اقلیتی حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھا۔
پیر کے احتجاج کی محدود شدت سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تحریک ختم ہوگئی ہے۔ حکومت اور طلبہ کے درمیان تعلیمی وسائل، داخلہ نظام اور اخراجات زندگی کے سوالات پر اختلاف برقرار ہے، جبکہ آئندہ مظاہروں کا حجم طلبہ تنظیموں کی حکمت عملی اور حکومتی مذاکرات پر منحصر ہوگا۔
