بیجنگ: چین نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سیاسی حل کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کرتے ہوئے ایران، سعودی عرب اور عمان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ الگ الگ ملاقاتوں میں مذاکرات کی میز پر واپسی پر زور دیا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں ایرانی اور سعودی حکام سے بات چیت کی، جبکہ صدر شی جن پنگ نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کی۔

چینی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق وانگ یی نے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی سے گفتگو میں سیاسی حل کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔ بیجنگ نے ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ سے متعلق اپنے مؤقف کا بھی اعادہ کیا۔ یہ چینی حکومت کا بیان ہے اور خطے میں جاری تنازع کے مختلف فریق اپنی ذمہ داریوں اور واقعات کی نوعیت کے بارے میں مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔

وانگ یی نے سعودی قومی سلامتی کے مشیر مساعد بن محمد العیبان سے ملاقات میں بھی بات چیت کے ذریعے کشیدگی ختم کرنے پر زور دیا۔ چینی بیان کے مطابق گفتگو میں علاقائی توانائی سلامتی اور اہم بحری راستوں کے تحفظ کی ضرورت نمایاں رہی۔ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور کشیدگی نے عالمی جہاز رانی اور توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہے، جس کے باعث چین جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک کے لیے خطے کا استحکام اہم اقتصادی مفاد بھی رکھتا ہے۔

صدر شی جن پنگ نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کا بیجنگ میں استقبال کیا۔ یہ سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد کسی عمانی سربراہ مملکت کا چین کا پہلا دورہ بتایا گیا ہے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق شی نے کہا کہ چین خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے اور مشرق وسطیٰ کو بڑی طاقتوں کی جغرافیائی سیاسی رقابت کا میدان نہیں بننا چاہیے۔

چین نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس کا مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی رواں ماہ ایران، عمان اور سعودی عرب کا دورہ کرے گا۔ وزارت خارجہ نے اسے شٹل ڈپلومیسی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقصد امن مذاکرات کو فروغ دینا اور کشیدگی کم کرنا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ان رابطوں سے کسی باقاعدہ مذاکراتی فریم ورک یا جنگ بندی کی طرف فوری پیش رفت ہوگی یا نہیں۔

چین ایران کا اہم اقتصادی شراکت دار ہے اور گزشتہ برسوں میں سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی اور سرمایہ کاری روابط بڑھا چکا ہے۔ اس پس منظر میں بیجنگ خود کو خطے میں سفارتی رابطہ کار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ تازہ ملاقاتیں کسی حتمی امن معاہدے کی خبر نہیں بلکہ تنازع کے فریقوں اور اہم علاقائی ریاستوں کے ساتھ سیاسی رابطے بڑھانے کی کوشش ہیں۔