اسلام آباد: انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو بتایا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کی جانچ میں ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ Cambridge امتحانی پرچوں کا لیک پاکستان سے شروع ہوا تھا۔ یہ بریفنگ قائمہ کمیٹی کے 26ویں اجلاس میں دی گئی، جس کی قائم مقام صدارت رکن قومی اسمبلی انجم عقیل خان نے کی۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ NCCIA کو بیرونِ ملک موجود سرورز تک براہ راست رسائی حاصل نہیں، جس کے باعث کسی مبینہ لیک کے اصل ماخذ، مقام اور تکنیکی طریقہ کار کی آزادانہ نشاندہی محدود ہو جاتی ہے اگر متعلقہ ڈیٹا غیر ملکی سرورز پر موجود ہو۔ اس لیے ’پاکستان سے لیک ہونے کا ثبوت نہ ملنے‘ کو اس مفہوم میں نہیں لیا جا سکتا کہ عالمی سطح پر لیک کے تمام پہلو حتمی طور پر حل یا مسترد ہو چکے ہیں؛ یہ NCCIA کی دستیاب شواہد اور رسائی کی حدود کے اندر سامنے آنے والی تحقیقاتی finding ہے۔

Cambridge امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک کا معاملہ مئی 2026 میں نمایاں ہوا تھا، جب بعض طلبہ نے AS-Level Mathematics کے پرچے سے متعلق سوشل میڈیا پر پہلے سے گردش کرنے والے مواد کی شکایت کی۔ اس وقت Cambridge International Education نے کم از کم ایک امتحانی مسئلے کی تصدیق کرتے ہوئے بعض امتحانی انتظامات تبدیل کیے تھے، جبکہ پاکستان کی وزارت داخلہ نے NCCIA کو معاملے کی چھان بین کی ہدایت دی تھی۔ تازہ پارلیمانی بریفنگ اسی تحقیقات کے پاکستان سے متعلق پہلو کی پیش رفت ہے۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال اور سپلائی کے مسئلے پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔ کمیٹی نے اینٹی نارکوٹکس فورس، پولیس، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی نظامتِ تعلیم کے درمیان مؤثر رابطے، تصدیق شدہ اعداد و شمار اور عملی کارروائی کی ضرورت پر زور دیا۔ تاہم یہ معاملہ Cambridge پیپر لیک کی سائبر تحقیق سے الگ ایجنڈا آئٹم تھا۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات اور تمباکو کے استعمال کی نگرانی کے لیے Anti-Drug and Tobacco Committees قائم کی گئی ہیں، جبکہ وفاقی تعلیمی بورڈ نے dyslexia رکھنے والے طلبہ کے لیے امتحانات میں اضافی وقت اور سوالنامہ پڑھنے میں مدد جیسے اقدامات متعارف کرائے ہیں۔

Cambridge کیس میں آئندہ حتمی نتیجہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ بیرونِ ملک موجود تکنیکی ریکارڈ، Cambridge کی اپنی تحقیقات اور متعلقہ اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ کس حد تک مکمل ہوتا ہے۔ فی الحال قومی اسمبلی کمیٹی کو دی گئی سرکاری بریفنگ کا واضح نکتہ یہ ہے کہ NCCIA کو پاکستان کو لیک کے ماخذ کے طور پر ثابت کرنے والا قابلِ اعتماد ثبوت نہیں ملا۔