اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے قیدیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی سے متعلق اپیلوں کی سماعت کے دوران اس اصول پر زور دیا ہے کہ جیل میں موجود افراد کے علاج کے معاملے میں امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے۔ عدالت کے جسٹس علی باقر نجفی نے سماعت کے دوران جیل مینوئل کی متعلقہ شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طبی ضرورت کی صورت میں قیدیوں کو سرکاری اسپتال منتقل کرنے کا طریقہ کار موجود ہے۔

یہ ریمارکس تین قیدیوں کی جانب سے دائر اپیلوں کی سماعت کے دوران سامنے آئے۔ درخواست گزار ایسے طبی سلوک اور سہولیات کے خواہاں ہیں جن کا حوالہ سابق وزیراعظم عمران خان کو دی جانے والی سہولیات کے تناظر میں دیا گیا۔ عدالت نے معاملے کو کسی ایک قیدی کی شخصیت تک محدود رکھنے کے بجائے جیل قواعد اور مساوی سلوک کے اصول کے تناظر میں دیکھا۔

سماعت کے دوران یہ سوال اہم رہا کہ اگر جیل انتظامیہ کے پاس کسی مریض قیدی کے علاج کے لیے مطلوبہ سہولت موجود نہ ہو تو اسے کس بنیاد اور طریقہ کار کے تحت سرکاری طبی ادارے منتقل کیا جانا چاہیے۔ عدالت کے مشاہدے کے مطابق جیل مینوئل قیدیوں کی طبی ضرورت پوری کرنے کے لیے قواعد فراہم کرتا ہے، اور ان قواعد کا اطلاق یکساں انداز میں ہونا چاہیے۔

قیدیوں کے طبی حقوق سے متعلق مقدمات میں عدالتوں کو عموماً دو پہلوؤں میں توازن قائم کرنا پڑتا ہے: ایک طرف جیل انتظامیہ کی سکیورٹی اور انتظامی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور دوسری طرف زیرِ حراست شخص کا صحت اور ضروری علاج تک رسائی کا حق۔ موجودہ اپیلوں میں بھی بنیادی قانونی سوال یہی ہے کہ قواعد کے تحت دستیاب سہولت کسی مخصوص فرد تک محدود ہے یا یکساں حالات میں دوسرے قیدی بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

عدالتی ریمارکس حتمی فیصلے کے مترادف نہیں ہیں اور اپیلوں کا قانونی نتیجہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔ اس مرحلے پر عدالت نے بنیادی طور پر جیل مینوئل، طبی ضرورت اور عدم امتیاز کے اصول پر سوالات اٹھائے ہیں، جن کی روشنی میں فریقین کے دلائل اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے گا۔