کوئٹہ: بلوچستان کے ضلع پشین میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کی کارروائی کے دوران چھ مبینہ دہشت گرد ہلاک جبکہ چار اہلکار زخمی ہو گئے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق CTD ترجمان نے بتایا کہ آپریشن پشین میں ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے مشتبہ افراد کے خلاف کیا گیا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد چھ افراد مارے گئے۔
CTD کے بیان کے مطابق کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی تحویل میں لیا گیا۔ محکمے نے دعویٰ کیا کہ مارے گئے افراد پشین کے علاقے میں سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے۔ یہ نسبت CTD کے سرکاری مؤقف پر مبنی ہے؛ دستیاب رپورٹس میں ان تمام افراد کی شناخت یا ان کے خلاف کسی عدالتی فیصلے کی تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے انہیں رپورٹ میں حکام کے دعوے کے مطابق مبینہ دہشت گرد کہا جا رہا ہے۔
ڈیلی پاکستان کی رپورٹ کے مطابق کارروائی سرانان کے علاقے میں کی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں چار CTD اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ لاشیں شناخت اور مزید قانونی کارروائی کے لیے کوئٹہ کے ہسپتال منتقل کی گئیں۔ بلوچستان کے حکام نے اس آپریشن کو صوبے میں جاری انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔
صوبائی داخلہ امور کے مشیر بابر یوسفزئی نے پشین اور قلعہ عبداللہ میں سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حالیہ کارروائیوں کی تعریف کی۔ ان کے مطابق متعلقہ ادارے مشتبہ عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن جاری رکھیں گے۔ ان کے بیانات حکومت کا سرکاری مؤقف ہیں اور کسی فرد کے جرم کا حتمی عدالتی تعین نہیں۔
پشین اور بلوچستان کے دوسرے اضلاع میں حالیہ ہفتوں کے دوران عسکریت پسند حملوں اور سکیورٹی کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سکیورٹی ادارے مختلف واقعات کو الگ الگ تحقیقات اور آپریشنز کے ذریعے دیکھ رہے ہیں۔ 14 ستمبر کی سرانان کارروائی کے بارے میں تصدیق شدہ بنیادی تفصیل یہی ہے کہ CTD نے چھ مشتبہ افراد کی ہلاکت، چار اہلکاروں کے زخمی ہونے اور اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی کی اطلاع دی۔
مزید تفتیش میں مارے گئے افراد کی شناخت، مبینہ تنظیمی روابط اور سابقہ حملوں سے تعلق کے بارے میں شواہد سامنے آ سکتے ہیں۔ جب تک ایسی معلومات متعلقہ قانونی یا تحقیقاتی عمل کے ذریعے سامنے نہیں آتیں، CTD کی جانب سے بتائی گئی وابستگی اور ملوث ہونے کے دعووں کو سرکاری الزام اور تحقیقاتی مؤقف کے طور پر ہی سمجھا جانا چاہیے۔
