کراچی: سندھ اسمبلی نے سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2026 اکثریتی ووٹ سے منظور کر لیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق بل کی منظوری پیر 14 ستمبر کے اجلاس میں اپوزیشن کے شدید احتجاج اور نعرے بازی کے دوران ہوئی، جبکہ بعض اپوزیشن ارکان نے ایوان میں بل کی نقول بھی پھاڑ دیں۔ قانون و پارلیمانی امور کے وزیر ضیا الحسن لنجار نے ووٹنگ سے قبل خصوصی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی، جس کے بعد ایوان نے مجوزہ ترامیم منظور کر لیں۔

منظور شدہ قانون میں بلدیاتی نظام کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق کئی تبدیلیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کسی کونسل کی مدت ختم ہونے کے بعد میئر کو ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات حاصل ہوں گے اور نئے منتخب میئر یا چیئرمین کے عہدہ سنبھالنے تک سبکدوش منتخب نمائندے انتظامی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔ ڈپٹی میئر یا وائس چیئرمین کو متعلقہ کونسل کا کنوینر مقرر کرنے اور اجلاسوں کی صدارت کا اختیار دینے کی شق بھی شامل ہے۔

ترامیم کے تحت یونین کونسل کے چیئرمینوں پر اپنے علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات کی نشاندہی اور ان کی اطلاع سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو دینے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے۔ قانون میں ایک مصالحتی کمیشن قائم کرنے کی شق بھی رکھی گئی ہے، جسے قانون کے نفاذ کے 90 دن کے اندر تشکیل دینا ہوگا۔ ان تبدیلیوں کا عملی اثر قواعد، متعلقہ نوٹیفکیشنز اور بعد کی انتظامی کارروائی سے مزید واضح ہوگا۔

بل کی منظوری کے بعد ایم کیو ایم، پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن ارکان نے مشترکہ طور پر قانون کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے الزام لگایا کہ قانون مقامی حکومتوں کو نچلی سطح پر حقیقی اختیار منتقل کرنے کے بجائے صوبائی حکومت کے اثر کو بڑھاتا ہے اور انہوں نے اسے قانونی و سیاسی فورمز پر چیلنج کرنے کا عندیہ دیا۔ یہ دعوے اپوزیشن کے سیاسی مؤقف ہیں؛ بل کی منظوری بذات خود ان الزامات کی عدالتی یا قانونی توثیق نہیں ہے۔

حکومتی بینچوں نے خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد بل کو ایوان سے منظور کرایا۔ اسمبلی کی کارروائی کے دوران ماحولیات سے متعلق سوالات بھی زیر بحث آئے، تاہم لوکل گورنمنٹ ترمیمی قانون اجلاس کی نمایاں قانون سازی رہا۔ اب منظور شدہ بل کے قانونی نفاذ کے لیے آئینی اور انتظامی مراحل مکمل ہونا باقی ہیں، جن کے بعد نئے انتظامی انتظامات عملی شکل اختیار کریں گے۔