اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت خدمات نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے بچوں کے وارڈ میں ہونے والی مہلک آتشزدگی کے بعد قانونی اور شناختی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں، خصوصاً یہ کہ جاں بحق نومولود بچوں اور ان کے والدین کے ڈی این اے ٹیسٹ کیوں نہیں کرائے گئے۔ ڈان کے مطابق کمیٹی کا اجلاس سینیٹر امیر ولی الدین چشتی کی صدارت میں ہوا، جس میں پمز اور وزارت صحت کی جانب سے واقعے کے بعد کی گئی کارروائی کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی ارکان نے اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ آتشزدگی کے معاملے میں متعلقہ ذمہ داران کے خلاف ابھی تک براہِ راست ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ وزارت صحت کے حکام نے بتایا کہ وزارت داخلہ کو خط لکھ کر ایف آئی آر کے اندراج کی درخواست کی گئی تھی، تاہم کمیٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ پمز انتظامیہ اور وزارت صحت کو خود متعلقہ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرانا چاہیے تھا، نہ کہ معاملہ صرف وزارت داخلہ کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا۔
سینیٹر سید مسرور احسن نے سوال کیا کہ 14 جاں بحق بچوں کی لاشیں والدین کے حوالے کرنے سے پہلے ڈی این اے کے ذریعے شناخت کی تصدیق کی گئی تھی یا نہیں۔ پمز حکام نے بتایا کہ تمام 14 لاشیں متعلقہ والدین کے حوالے کی گئیں اور شناخت کے لیے بچوں کے بازوؤں پر موجود شناختی بینڈ استعمال کیے گئے۔ ایک سینئر پمز افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ یہ بینڈ پلاسٹر سے بنے تھے اور ان پر درج شناخت واضح تھی، جبکہ ان کے مطابق بچوں کی لاشیں آگ سے مکمل طور پر جھلسنے کے بجائے کاربن مونو آکسائیڈ اور دھوئیں کے اثرات سے سیاہ ہوئی تھیں۔
کمیٹی نے اس وضاحت پر بھی سوال اٹھایا کہ شدید آتشزدگی کے باوجود شناختی بینڈ اور ان پر درج نام کیسے محفوظ رہے۔ اجلاس نے مبینہ غفلت کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ قانون کے مطابق ذمہ دار قرار پانے والے افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی کہ متعلقہ افسران کے نام قانونی تقاضوں کے مطابق ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے پر کارروائی کی جائے۔
یہ سفارشات پارلیمانی نگرانی کے مرحلے کی نمائندگی کرتی ہیں اور کسی مخصوص افسر کے خلاف جرم ثابت ہونے یا حتمی عدالتی نتیجے کے مترادف نہیں۔ ذمہ داری کا تعین تفتیش، ثبوت اور متعلقہ قانونی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔ کمیٹی نے واقعے کے بعد ادارہ جاتی ردعمل میں شفافیت، ریکارڈ کی تصدیق اور بروقت قانونی کارروائی پر زور دیا۔
