اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے گھریلو قتل اور خواتین کے خلاف جرائم کی تحقیقات میں صنفی حساس طریقہ کار اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ازدواجی گھر کی نجی نوعیت مجرموں کو احتساب سے بچانے کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔ یہ آبزرویشنز حبیب اللہ نامی شخص کی جیل پٹیشن مسترد کرتے ہوئے سامنے آئیں، جسے اپنی اہلیہ عقیلہ بی بی کے قتل کے مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔

جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302(b) کے تحت دی گئی عمر قید برقرار رکھی۔ عدالت نے مقتولہ کے قانونی ورثا کے لیے پانچ لاکھ روپے معاوضے کا حکم بھی برقرار رکھا۔ خبر رساں ادارے اے پی پی اور جیو نیوز کے مطابق تفصیلی فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے تحریر کیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ گھریلو قتل کے واقعات اکثر ایسے حالات میں پیش آتے ہیں جہاں براہ راست گواہ محدود ہوتے ہیں، اس لیے تحقیقاتی اداروں پر شواہد کی درست شناخت، حفاظت اور پیشکش کی ذمہ داری زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ فیصلے میں قانونِ شہادت کے آرٹیکل 122 کے تناظر میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ کسی شخص کے خصوصی علم میں موجود حقائق کی قابل قبول وضاحت اہم ہو سکتی ہے، تاہم شوہر کے خلاف خودکار طور پر جرم کا مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے ملزم کے حق میں بے گناہی کے قانونی اصول اور دیگر حفاظتی ضمانتوں کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔

بینچ نے اس مقدمے کی پولیس تفتیش میں خامیوں پر تشویش ظاہر کی۔ رپورٹ کے مطابق خون آلود ہتھوڑا اور چادر برآمد کیے جانے کے باوجود انہیں ٹرائل کورٹ میں بطور ثبوت پیش نہیں کیا گیا، جسے عدالت نے سنگین غفلت قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ ایسے مقدمات پہلے ہی ثبوت کے اعتبار سے مشکل ہوتے ہیں اور ناقص یا لاپرواہ تفتیش انصاف کے عمل کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔

سپریم کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ پولیس افسران کو صنفی اور پدرشاہی تعصبات پہچاننے اور ان سے بچنے کی مناسب تربیت دی جائے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہا گیا کہ خواتین کے خلاف جرائم میں تحقیقاتی طریقہ کار حقیقتاً صنفی حساس بنایا جائے، شواہد کو منظم طور پر محفوظ کیا جائے اور ایسی غفلت پر تحقیقاتی افسران کا احتساب کیا جائے جو مقدمے کی بنیاد کمزور کر سکتی ہے۔ فیصلے میں گھریلو قتل کے ہر مقدمے کے منظم جائزے کے نظام پر غور کرنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔