اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے چیف جسٹس امین الدین خان نے آئینی بالادستی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی اختیار کا ہر استعمال آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر ہونا چاہیے۔ ڈان کے مطابق انہوں نے منگل 15 ستمبر کو اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئین کو عوام کی اجتماعی مرضی کا اعلیٰ ترین اظہار قرار دیا اور کہا کہ آئین کے تحت قائم ہر ادارہ اپنی اتھارٹی اسی دستاویز سے اخذ کرتا ہے اور اسی کی حدود کا پابند رہتا ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کی رہنمائی کرنے والا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ آئین سب سے بالا رہے۔ انہوں نے آئینی فیصلوں کی نوعیت کو عام عدالتی تنازعات سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں ریاستی ڈھانچے، آئینی اختیارات کی تقسیم، بنیادی حقوق کے تحفظ اور مجموعی آئینی نظم سے متعلق سوالات زیرِ غور آتے ہیں۔

انہوں نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کو پاکستان کی آئینی تاریخ میں ایک اہم ادارہ جاتی پیش رفت قرار دیا۔ ایف سی سی نومبر 2025 میں منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی گئی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے قیام کے وقت مکمل ادارہ جاتی انفراسٹرکچر پہلے سے موجود نہیں تھا اور ججوں کو عدالتی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے ساتھ ہی نئے ادارے کی انتظامی بنیادیں بھی استوار کرنا پڑیں۔

جسٹس امین الدین نے بتایا کہ ججوں کے حلف اٹھانے کے دن ہی وفاقی آئینی عدالت کے تین بنچوں نے کام شروع کر دیا تھا۔ ان کے مطابق عدالت نے ابتدا میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت سے کام کیا اور بعد میں سابق وفاقی شرعی عدالت کی عمارت میں منتقل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ نئی عدالت کے قیام کے ساتھ عدالتی کام روکنے کے لیے کوئی طویل تیاری کا عرصہ دستیاب نہیں تھا، اس لیے ادارہ سازی اور مقدمات کی سماعت بیک وقت شروع ہوئی۔

چیف جسٹس نے موجودہ عمارت اور انتظامی وسائل پر دباؤ کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق یہ عمارت تقریباً 46 سال قبل قریب 100 ملازمین کی گنجائش کے لیے بنائی گئی تھی، جبکہ اب تقریباً 400 افسران، اہلکار اور منسلک عملہ اسی جگہ کام کر رہا ہے۔ انہوں نے محدود جگہ اور سہولتوں کو ادارہ جاتی چیلنج قرار دیا۔ خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ نئی عدالت کی ادارہ جاتی ترقی کے باوجود اس کی قانونی حیثیت اور اختیارات کا اصل معیار آئین ہی ہے۔