کابینہ کمیٹی برائے ڈسپوزل آف لیجسلیٹو کیسز نے 22 ستمبر 2026 کے اجلاس میں مختلف قانونی اور انتظامی تجاویز کی منظوری دی ہے۔ وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی زیر صدارت اجلاس میں پاکستان آئل ریفائننگ، بلینڈنگ، ٹرانسپورٹیشن، اسٹوریج اینڈ مارکیٹنگ رولز 2016 میں مجوزہ ترامیم، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 کی دفعہ 30 اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 میں تبدیلیوں سمیت کئی معاملات زیر غور آئے۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے سرکاری بیان کے مطابق اوگرا آرڈیننس میں ترمیم کے ساتھ اتھارٹی میں 'ممبر لا' کی نئی آسامی بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ کمیٹی نے پاکستان میرین اکیڈمی کو ڈگری دینے والا ادارہ بنانے کی تجویز منظور کی، جس کے تحت اسے پاکستان میرین انسٹیٹیوٹ کراچی کے طور پر اپ گریڈ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی اجلاس میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرانکس آرڈیننس 1979 کی منسوخی کے مسودہ بل اور وفاقی فلڈ کمیشن کی ازسرنو تشکیل، تنظیم نو اور اصلاحات سے متعلق 2026 کے بل کو بھی منظوری دی گئی۔

پیمرا سے متعلق قواعد میں مجوزہ ترمیم بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی، تاہم سرکاری بیان کے مطابق اس معاملے پر فیصلہ مؤخر کرتے ہوئے اسے اگلے اجلاس میں دوبارہ زیر غور لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس فرق کی اہمیت یہ ہے کہ منظور شدہ مسودات اور زیر التوا تجاویز کو ایک ہی قانونی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

کمیٹی کی منظوری کسی ترمیم یا بل کے فوراً قانون بن جانے کے مترادف نہیں ہوتی۔ متعلقہ مسودات کو اپنی نوعیت کے مطابق مزید حکومتی، کابینہ یا پارلیمانی مراحل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی طرح پاکستان میرین اکیڈمی کی مجوزہ اپ گریڈیشن کے عملی نفاذ، ڈگری پروگراموں کی ساخت اور نئے ادارہ جاتی انتظامات کی تفصیلات بعد کے سرکاری فیصلوں سے واضح ہوں گی۔

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں، محکموں اور ڈویژنز کے نمائندے شریک ہوئے۔ سرکاری اعلامیے میں ان ترامیم کے مالی اثرات، نفاذ کی حتمی تاریخ یا ہر مجوزہ قانون کے مکمل متن کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے رپورٹ میں صرف کمیٹی کی منظور کردہ اور مؤخر کی گئی تجاویز کی تصدیق شدہ حیثیت بیان کی گئی ہے۔