اسلام آباد: کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) نے سٹی فارما لمیٹڈ کی جانب سے پاک ہائم انٹرنیشنل فارما (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے تمام حصص کے حصول کی منظوری دے دی ہے۔ کمیشن نے کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت فیز ون مسابقتی جائزہ مکمل کرنے کے بعد قرار دیا کہ مجوزہ لین دین سے متعلقہ ادویاتی منڈیوں میں مسابقت کو نمایاں نقصان پہنچنے یا غالب پوزیشن پیدا ہونے کا امکان نہیں۔
سٹی فارما ایک فہرست شدہ کمپنی ہے جو ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس (APIs)، تیار ادویات، طبی کیمیکلز اور نیوٹراسیوٹیکل مصنوعات کی تیاری اور فروخت سے وابستہ ہے۔ پاک ہائم بھی فارماسیوٹیکل مصنوعات تیار اور فروخت کرتی ہے۔ حصول مکمل ہونے کے بعد پاک ہائم سٹی فارما کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی بن جائے گی۔
CCP نے جائزے کے لیے پانچ متعلقہ پروڈکٹ مارکیٹس کی نشاندہی کی: اینٹی بایوٹک فارمولیشنز، اینٹی السر فارمولیشنز، درد کش ادویات، اینٹی الرجک فارمولیشنز اور ذیابیطس کے علاج کی فارمولیشنز۔ کمیشن کے مطابق اینٹی بایوٹکس، درد کش اور اینٹی ڈائیبیٹک شعبوں میں دونوں کمپنیوں کی سرگرمیوں میں افقی اوورلیپ موجود تھا، تاہم ہدف کمپنی کے محدود مارکیٹ شیئر کے باعث اسے مسابقت کے لیے اہم خطرہ نہیں سمجھا گیا۔ اینٹی السر اور اینٹی الرجک مارکیٹس میں ایسا افقی اوورلیپ نہیں پایا گیا۔
کمیشن نے ممکنہ عمودی تعلق کا بھی جائزہ لیا کیونکہ سٹی فارما APIs تیار کرتی ہے جبکہ پاک ہائم انہیں تیار ادویات میں استعمال کر سکتی ہے۔ جائزے میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو برس کے دوران پاک ہائم نے سٹی فارما سے کوئی API حاصل نہیں کیا تھا۔ کمیشن کے مطابق ہدف کمپنی کی محدود مارکیٹ موجودگی کے باعث یہ ممکنہ تعلق بھی ایسی مسابقتی تشویش پیدا نہیں کرتا جس سے لین دین روکا جائے۔
CCP نے نتیجہ اخذ کیا کہ حصول سے متعلقہ مارکیٹوں میں سٹی فارما کے حصے میں صرف معمولی اضافہ ہوگا، نئی کمپنیوں کے داخلے کے لیے نمایاں رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی اور موجودہ حریفوں کی مؤثر مسابقت کی صلاحیت محدود نہیں ہوگی۔ اسی بنیاد پر کمیشن نے لین دین کی منظوری دی۔
یہ منظوری مسابقتی قانون کے زاویے سے دی گئی ریگولیٹری کلیئرنس ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ادغام کے بعد کاروباری نتائج، فروخت یا منافع کی کوئی مخصوص سطح یقینی ہے۔ حصول کی تجارتی کامیابی کمپنیوں کے انضمام، مصنوعات کی حکمت عملی، ریگولیٹری تعمیل اور فارماسیوٹیکل مارکیٹ کی صورتحال پر منحصر رہے گی۔
