اسلام آباد: پاکستان اور چین نے سوست-خنجراب سرحدی راستے سے زرعی اور جلد خراب ہونے والی مصنوعات کی تجارت کو تیز کرنے کے لیے ایک خصوصی ’گرین چینل‘ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے کسٹمز حکام کے درمیان طے پانے والے انتظام کا مقصد سرحد پر کلیئرنس کا وقت کم کرنا اور ایسے تجارتی مال کو ترجیحی بنیاد پر گزارنا ہے جس کے خراب ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
معاہدے کے تحت پاکستان کسٹمز اور چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز زرعی مصنوعات کے لیے دستاویزی جانچ، رسک مینجمنٹ اور سرحدی کلیئرنس کے عمل میں قریبی رابطہ رکھیں گے۔ خنجراب پاس پاکستان اور چین کے درمیان زمینی تجارت کا اہم راستہ ہے اور سوست ڈرائی پورٹ پاکستانی جانب سے اس راہداری کی مرکزی کسٹمز سہولت ہے۔
گرین چینل کا تصور یہ ہے کہ پہلے سے متعین معیار پر پورا اترنے والی کھیپوں کو معمول کے تجارتی مال کے مقابلے میں ترجیح دی جائے تاکہ پھل، سبزیاں اور دوسری جلد خراب ہونے والی زرعی اشیا غیر ضروری تاخیر سے محفوظ رہیں۔ دونوں جانب کے کسٹمز ادارے رسک سے متعلق معلومات اور ضروری الرٹس کے تبادلے کے ذریعے مشکوک یا زیادہ خطرے والی کھیپوں کی الگ جانچ بھی کر سکیں گے۔
پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے چین ایک بڑی منڈی ہے، تاہم زمینی راستے سے زرعی تجارت میں موسم، بلند پہاڑی راستے، سرحدی اوقات اور کسٹمز کلیئرنس جیسے عوامل اہم رہتے ہیں۔ ترجیحی کلیئرنس کا نظام مؤثر ثابت ہونے کی صورت میں نقل و حمل کے دوران نقصان کم کرنے اور برآمدی اشیا کو نسبتاً جلد منڈی تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ انتظام پاکستان اور چین کے درمیان سرحدی تجارت کو سہل بنانے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔ خنجراب سرحد حالیہ برسوں میں تجارت اور مسافر آمدورفت کے لیے زیادہ باقاعدگی سے استعمال ہونے لگی ہے، جبکہ دونوں ممالک نے زمینی رابطوں کو چین پاکستان اقتصادی راہداری اور دوطرفہ تجارت کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔
گرین چینل کے عملی نتائج کا انحصار سرحدی انفراسٹرکچر، کولڈ چین سہولیات، کسٹمز نظام کے باہمی رابطے اور دونوں طرف طے شدہ طریقہ کار کے مستقل نفاذ پر ہوگا۔ صرف ترجیحی درجہ ملنے سے تمام تجارتی رکاوٹیں ختم نہیں ہوں گی، لیکن جلد خراب ہونے والی مصنوعات کے لیے وقت کی بچت براہ راست تجارتی لاگت اور معیار پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
معاہدہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ زرعی برآمدات میں معیار، قرنطینہ اور غذائی تحفظ کے ضوابط بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لیے تیز کلیئرنس کے ساتھ ضابطہ جاتی جانچ برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔ دونوں ملکوں کے کسٹمز اداروں کے درمیان معلومات کا تبادلہ اسی توازن کو قائم رکھنے کا ایک ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔
