اسلام آباد: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کو بتایا ہے کہ مختلف اقتصادی شعبوں میں 38 منصوبوں کو حتمی شکل دی گئی ہے جن سے تقریباً 40 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ یہ بریفنگ 29 اکتوبر کو سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت کمیٹی اجلاس میں دی گئی، جس کی تفصیلات 30 اکتوبر کو رپورٹ ہوئیں۔

حکام کے مطابق منصوبے کان کنی، صنعت، ریلوے، سڑکوں، بحری امور، بجلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویات، صحت، سیاحت اور غذائی تحفظ سمیت متعدد شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ایس آئی ایف سی نے کمیٹی کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ضابطہ جاتی طریقہ کار آسان بنانے، ویزا سہولت بہتر کرنے اور سنگل ونڈو آپریشنز کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی منظور ہو چکی ہے اور پانچ ریفائنریوں نے عمل درآمد کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن سے متعلق مجوزہ سرمایہ کاری تقریباً چھ ارب ڈالر بتائی گئی۔ حکام نے چین کی کمپنیوں کے ساتھ رابطوں اور قطر و کویت کے سرمایہ کاروں کے ساتھ ہونے والی پیش رفت کا بھی ذکر کیا۔

کمیٹی کے ارکان نے سرمایہ کاری کے ماحول میں موجود رکاوٹوں پر سوالات اٹھائے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ماضی میں نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس کا حصول سرمایہ کاروں کے لیے بڑی رکاوٹ رہا ہے، اگرچہ ایس آئی ایف سی کی مداخلت کے بعد کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو دی جانے والی ٹھوس مراعات کی تفصیل طلب کی، جبکہ سینیٹر عبدالقادر نے توانائی اور فنانسنگ کی بلند لاگت، متعدد ریگولیٹری تقاضوں، ٹیکس نوٹسز، منافع کی بیرون ملک منتقلی اور اسمگل شدہ اشیا سے مسابقت کے مسائل اٹھائے۔

اجلاس میں نیپرا حکام نے بجلی گھروں کی کارکردگی، کیپیسٹی فیکٹر، ٹیرف ڈھانچے اور کیپیسٹی ادائیگیوں پر بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعض بجلی گھر گرڈ کی طلب میں تبدیلی کے باعث 50 فیصد سے کم کیپیسٹی فیکٹر پر چلے، تاہم کسی پلانٹ نے صفر بجلی پیداوار ریکارڈ نہیں کی۔ آر ایف او پر چلنے والے بجلی گھروں کے تھرڈ پارٹی ہیٹ ریٹ ٹیسٹس نیسپاک کو بین الاقوامی بولی کے ذریعے دیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔

اہم بات یہ ہے کہ 40 ارب ڈالر کا عدد متوقع سرمایہ کاری ہے، موصول شدہ یا حتمی طور پر پاکستان منتقل ہونے والی رقم نہیں۔ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور امریکا-ایران تنازع سے تجارت و کاروبار میں خلل کے باعث قابل اعتماد حتمی سرمایہ کاری اعداد دینا مشکل ہے۔ اس لیے منصوبوں کی حقیقی سرمایہ کاری کا حجم ان کی مالی بندش، سرمایہ کاروں کے فیصلوں، ضابطہ جاتی منظوریوں اور علاقائی حالات پر منحصر رہے گا۔