مسلسل اپ ڈیٹس

ایس آئی ایف سی کے 38 منصوبے اور متوقع 40 ارب ڈالر سرمایہ کاری

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) نے 29 اکتوبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کو بتایا کہ کان کنی، صنعت، ریلوے، سڑکیں، بحری امور، بجلی، آئی ٹی، ادویات، صحت، سیاحت اور غذائی تحفظ سمیت شعبوں کے 38 منصوبوں کو حتمی شکل دی گئی ہے اور ان سے تقریباﹰ 40 ارب ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری منسلک ہے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی منظور ہے اور پانچ ریفائنریوں نے عملدرآمد معاہدوں پر دستخط کیے جن سے مجوزہ سرمایہ کاری تقریباً 6 ارب ڈالر بتائی گئی۔ حکام نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ضابطہ جاتی طریقۂ کار آسان بنانے، ویزا سہولت بہتر کرنے اور سنگل ونڈو اقدامات سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا۔ ایس آئی ایف سی نے واضح کیا کہ 40 ارب ڈالر ایک متوقع عدد ہے، موصول شدہ یا حتمی رقم نہیں، اور خطّے کی صورتِ حال، مالی بندش، سرمایہ کار کے فیصلے اور ضابطہ جاتی منظوریوں پر منحصر رہے گی؛ بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکا‑ایران کشیدگی تجارت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ کمیٹی کے اراکین نے توانائی و فنانسنگ کی بلند لاگت، متعدد ریگولیٹری تقاضے، ٹیکس نوٹسز، منافع کی بیرونِ ملک منتقلی اور اسمگل شدہ اشیا سے مسابقت جیسے رکاوٹوں کی نشاندہی کی۔ اجلاس میں نیپرا نے بجلی گھروں کے کیپیسٹی فیکٹر اور ٹیرف ڈھانچے پر بھی بریفنگ دی — بعض پلانٹس 50 فیصد سے کم کیپیسٹی فیکٹر پر چلے مگر کسی نے صفر پیداوار ریکارڈ نہیں کی، اور آر ایف او پلانٹس کے تھرڈ‑پارٹی ہیٹ ریٹ ٹیسٹس نیسپاک کو بین الاقوامی بولی کے ذریعے دیے جانے کی اطلاع دی گئی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے