اسلام آباد: مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے متحدہ عرب امارات میں قائم ویلورا گلوبل وینچرز ایف زیڈ سی کو پاکستان کی فہرست شدہ کمپنی مسعود ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کے حصص خریدنے کی اجازت دے دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیشن نے 24 ستمبر کو جاری بیان میں بتایا کہ لین دین کا فیز ون مسابقتی جائزہ Competition Act 2010 کے تحت مکمل کیا گیا اور ابتدائی سطح پر ایسا کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا جو متعلقہ منڈیوں میں مسابقت کو نمایاں طور پر کم کرے۔
منظور شدہ لین دین کے تحت ویلورا گلوبل وینچرز، شنگھائی چیلنج ٹیکسٹائل کمپنی لمیٹڈ اور ژیجیانگ ژن آؤ انڈسٹری کمپنی لمیٹڈ سے مسعود ٹیکسٹائل ملز کے حصص خریدے گی۔ حصص کی منتقلی شیئر پرچیز ایگریمنٹ کے تحت ہوگی۔ رپورٹ میں خریدے جانے والے حصص کے حتمی فیصد یا سودے کی مالی قدر کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ان نکات کے بارے میں کوئی تخمینہ لگانا درست نہیں ہوگا۔
ویلورا گلوبل وینچرز عجمان فری زون اتھارٹی کے تحت یو اے ای میں رجسٹرڈ ہے اور پاکستان سے باہر ٹیکسٹائل و ملبوسات کی ہول سیل تجارت اور تجارتی بروکریج میں سرگرم ہے۔ اس سے منسلک کمپنیاں بین الاقوامی ٹیکسٹائل سورسنگ، تجارتی رابطوں، صارفین کی تلاش اور آرڈر کوآرڈینیشن جیسے شعبوں میں کام کرتی ہیں۔ دوسری جانب مسعود ٹیکسٹائل ملز پاکستان میں کاٹن اور مصنوعی ریشے کے دھاگے، بنے اور رنگے ہوئے کپڑے اور گارمنٹس تیار اور فروخت کرتی ہے۔
سی سی پی نے اپنے فیز ون جائزے میں یہ جانچا کہ آیا خریداری سے کسی متعلقہ مارکیٹ میں غالب پوزیشن بننے، موجودہ غلبہ مضبوط ہونے یا مسابقت نمایاں طور پر کم ہونے کا امکان ہے۔ کمیشن کے مطابق ویلورا گلوبل وینچرز کی لین دین سے پہلے پاکستان کی متعلقہ منڈی میں براہ راست موجودگی نہیں تھی، اس لیے خریداری سے مسعود ٹیکسٹائل ملز کی پیداوار، مقامی فروخت یا مارکیٹ پوزیشن میں فوری طور پر ایسا مادی فرق متوقع نہیں جس سے مسابقتی خدشہ پیدا ہو۔
کمیشن نے ممکنہ عمودی تعلق کا بھی جائزہ لیا کیونکہ خریدار گروپ بین الاقوامی ٹیکسٹائل ٹریڈنگ کرتا ہے جبکہ مسعود ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ میں فعال ہے۔ سی سی پی کے مطابق دونوں کاروباروں کی نوعیت اور دائرہ ایسا نہیں کہ موجودہ لین دین نئی داخلی رکاوٹیں کھڑی کرے یا خریدار کی مارکیٹ طاقت میں غیر معمولی اضافہ کرے۔ اسی بنیاد پر کمیشن نے Competition Act کی متعلقہ دفعہ کے تحت لین دین کی منظوری دی۔
سی سی پی کا کہنا ہے کہ بروقت اور شفاف مرجر و ایکوزیشن جائزے سرمایہ کاری اور کاروباری توسیع میں ضابطہ جاتی یقین دہانی فراہم کرتے ہیں، جبکہ کمیشن کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ایسی ٹرانزیکشنز سے منڈی میں مقابلہ متاثر نہ ہو۔ موجودہ منظوری مسابقتی پہلو سے ریگولیٹری اجازت ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خریداری کے تمام کارپوریٹ، مالی یا دیگر قانونی مراحل لازماً مکمل ہو چکے ہیں۔ ان مراحل کی تکمیل متعلقہ فریقوں اور قابل اطلاق قواعد کے مطابق ہوگی۔
