اسلام آباد: کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسلام آباد ایکسپریس وے ایسٹ کے ساتھ قائم عمارتوں میں تعمیراتی اور زمین کے استعمال سے متعلق خلاف ورزیوں کے نتیجے میں تقریباً تین ارب روپے کے قابل وصول لینڈ کنورژن چارجز اور جرمانوں کی نشاندہی کی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق 377 ڈھانچوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے، جن میں 281 کمرشل عمارتیں شامل ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون میں شائع اے پی پی رپورٹ کے مطابق قابل وصول رقوم غیر مجاز تعمیرات، زمین کے منظور شدہ استعمال کی خلاف ورزی، سیٹ بیک، فلور ایریا ریشو اور کورڈ ایریا سے متعلق قواعد کی خلاف ورزیوں سے وابستہ ہیں۔ یہ رقم سی ڈی اے کی نشاندہی اور قابل وصول تخمینے کی نمائندگی کرتی ہے؛ اس کا تمام حصہ بالفعل وصول ہو چکا ہے، ایسا نہیں بتایا گیا۔
سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن نے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایکسپریس وے کے ساتھ سیلنگ، ریگولرائزیشن اور جہاں قواعد کے تحت ضروری ہو وہاں مسماری کی کارروائیاں شروع کی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق 140 سے زیادہ ڈھانچوں کے خلاف اب تک قابل اطلاق بلڈنگ کنٹرول ضوابط کے تحت کارروائی کی جا چکی ہے۔
تعمیراتی ضوابط میں زمین کے استعمال، عمارت کے رقبے، سڑک یا پلاٹ کی حدود سے مطلوبہ فاصلے اور منظور شدہ نقشے کے مطابق تعمیر جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ان قواعد کی خلاف ورزی کی نوعیت کے لحاظ سے متعلقہ ادارہ جرمانہ، ریگولرائزیشن فیس، سیلنگ یا غیر قانونی حصے کی مسماری جیسے اقدامات اختیار کر سکتا ہے۔ ہر عمارت کے خلاف حتمی کارروائی اس کے ریکارڈ، منظوریوں اور مخصوص خلاف ورزی کی بنیاد پر مختلف ہو سکتی ہے۔
سی ڈی اے کی موجودہ مہم میں کمرشل عمارتوں کی بڑی تعداد شامل ہونے کے باعث کاروباری سرگرمیوں اور جائیداد مالکان پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم اتھارٹی کی جانب سے خلاف ورزی کی نشاندہی کسی مالک کے تمام ممکنہ قانونی اعتراضات یا اپیل کے حقوق ختم نہیں کرتی۔ متعلقہ فریق قواعد کے تحت دستاویزات، منظور شدہ نقشے یا دیگر قانونی بنیاد پیش کر سکتے ہیں۔
تین ارب روپے کا تخمینہ شہری زمین کے استعمال اور تعمیراتی نگرانی کے مالی پہلو کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ غیر مجاز کمرشل استعمال یا اضافی تعمیر سے سرکاری محصولات متاثر ہونے کے ساتھ سڑکوں، پارکنگ، نکاسی، ٹریفک اور شہری سہولیات پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سی ڈی اے نے ابھی تمام 377 عمارتوں کی انفرادی فہرست، ہر عمارت کے واجبات یا کارروائی کی مکمل ٹائم لائن عوامی رپورٹ میں فراہم نہیں کی۔ اس لیے تازہ پیش رفت کو بڑے پیمانے پر بلڈنگ کنٹرول انفورسمنٹ اور واجبات کی نشاندہی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے مالی اور قانونی نتائج ہر کیس کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد واضح ہوں گے۔

