وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی زمین اور جائیداد سے متعلق اپنے ریکارڈ کو جامع طور پر ڈیجیٹل بنا رہی ہے اور نصف سے زیادہ کام مکمل ہو چکا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سوال کے جواب میں کہا کہ باقی عمل اگلے ایک سال میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ یہ پارلیمانی بیان ہے؛ آزاد تکنیکی آڈٹ یا مکمل ہونے کی حتمی تاریخ خبر میں شامل نہیں۔
وزیر کے مطابق سی ڈی اے رہائشی و تجارتی پلاٹوں اور دیگر پراپرٹی یونٹس کا باقاعدہ ریکارڈ رکھتا ہے اور منتقلی کا طے شدہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام میں منظم دھوکا دہی یا غیر قانونی عمل کی اطلاع نہیں، تاہم بیرون ملک پاکستانیوں سمیت بعض زمین سے متعلق معاملات میں مسائل سامنے آتے ہیں۔ اسی فرق کی وجہ سے انفرادی شکایت کو پورے نظام کی حالت یا پورے نظام کے دعوے کو ہر انفرادی کیس کا فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
بیان میں تسلیم کیا گیا کہ جعلی دستاویزات کے ذریعے ایک ہی پلاٹ پر متعدد ملکیتی دعوے سامنے آ سکتے ہیں، اگرچہ سی ڈی اے کا نظام ایک پلاٹ کو ایک سے زیادہ افراد کو الاٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ وزیر کے مطابق جعلی کاغذات تیار کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے اور داخلی احتساب مضبوط کیا گیا ہے۔ کسی مخصوص تنازع کا نتیجہ متعلقہ اصل ریکارڈ، عدالتی یا انتظامی کارروائی اور فریقین کے ثبوت سے طے ہوگا۔
مکمل ڈیجیٹلائزیشن کا مقصد منتقلی کے عمل کو آسان، شفاف اور مؤثر بنانا ہے۔ حکومت کے مطابق صارفین مختلف خدمات تک آن لائن رسائی حاصل کر سکیں گے اور فیس بھی ڈیجیٹل طریقے سے ادا کی جا سکے گی۔ خبر میں پورٹل کا حتمی نام، آغاز کی تاریخ، ڈیجیٹل دستاویز کی قانونی تصدیق، پرانے ریکارڈ کی اسکیننگ کا معیار یا شکایت کے آن لائن مراحل بیان نہیں کیے گئے۔
سی ڈی اے نے ایک ون ونڈو آپریشن بھی قائم کیا ہے جہاں مختلف خدمات ایک ہی سہولت سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔ وزیر نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں اور دوسرے صارفین کے پراپرٹی معاملات آسان بنانے کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کو اصل دستاویز، شناختی ثبوت اور سرکاری رسید محفوظ رکھنی چاہیے اور نامعلوم لنک یا فرد کو فیس یا دستاویز بھیجنے سے پہلے سی ڈی اے کے تصدیق شدہ ذریعے سے پڑتال کرنی چاہیے۔
قومی اسمبلی کو دی گئی معلومات میں دیہی علاقوں کی ترقی اور پارک انکلیو منصوبے کا ذکر بھی ہوا، مگر یہ ڈیجیٹل پراپرٹی منتقلی سے الگ ترقیاتی موضوع ہے۔ اردو ہیڈ لائنز ریکارڈ کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن، آن لائن خدمات کے باقاعدہ اجرا اور صارف کے لیے قابلِ تصدیق طریقہ کار سامنے آنے پر اس رپورٹ کو عملی تفصیل کے ساتھ اپ ڈیٹ کرے گا۔




