پاکستان میں پنشنرز کے لیے ڈیجیٹل پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی سہولت شروع کر دی گئی ہے، جس کا مقصد بزرگ، کمزور اور معذور افراد کو بار بار بینک جانے کی ضرورت سے بچانا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے افتتاحی تقریب میں بتایا کہ نیا نظام شہری اور فوجی دونوں طرح کے پنشنرز کے لیے بنایا گیا ہے اور اس سے خواتین اور جسمانی مشکلات رکھنے والے شہریوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
نظام کے تحت پنشنر موبائل ایپ اور چہرے کی شناخت استعمال کرتے ہوئے گھر سے اپنی زندگی کی تصدیق مکمل کر سکے گا۔ یہ سہولت اس روایتی عمل کا ڈیجیٹل متبادل ہے جس میں بہت سے پنشنرز کو ہر چھ ماہ بعد بینک یا متعلقہ دفتر جانا پڑتا تھا۔ دستیاب سرکاری بیان میں ایپ کا مکمل مرحلہ وار طریقہ، معاون فون ماڈلز اور ان افراد کے لیے متبادل عمل بیان نہیں کیا گیا جو اسمارٹ فون یا قابلِ اعتماد انٹرنیٹ استعمال نہیں کر سکتے۔
وزیراعظم کے مطابق نادرا یہ خدمت پنشنرز سے کوئی فیس لیے بغیر فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے لاکھوں مستحق افراد کے لیے تصدیقی عمل آسان ہو سکتا ہے، بالخصوص ان شہریوں کے لیے جن کے لیے سفر، قطار یا جسمانی حاضری مشکل ہوتی ہے۔ بلا معاوضہ ہونے کا اعلان اہم ہے، تاہم موبائل ڈیٹا، فون یا کسی معاون فرد کی ضرورت جیسے بالواسطہ اخراجات ہر صارف کی صورت حال کے مطابق مختلف رہ سکتے ہیں۔
ڈیجیٹل شناخت میں چہرے کی کامیاب شناخت، غلط میچ سے تحفظ، ذاتی معلومات کی حفاظت اور ناکام تصدیق کی صورت میں فوری انسانی مدد بنیادی عملی سوالات ہیں۔ موجودہ افتتاحی خبر میں ڈیٹا رکھنے کی مدت، شکایت درج کرنے کا راستہ، متبادل بایومیٹرک طریقہ یا بیرونِ ملک مقیم پنشنرز کے لیے الگ ہدایات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ ان نکات کی حتمی رہنمائی متعلقہ نادرا، بینک اور پنشن ادائیگی اداروں کی باضابطہ دستاویزات سے آنی چاہیے۔
وزیراعظم نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر ڈاکٹر توقیر حسین شاہ، نادرا کے چیئرمین اور متعلقہ اداروں کے کام کو سراہا۔ افتتاح اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سہولت متعارف کرائی گئی ہے، لیکن ملک بھر میں ہر صارف کے لیے فوری اور یکساں دستیابی کا آزاد ثبوت نہیں۔ مرحلہ وار نفاذ، ہیلپ لائن، رجسٹریشن اور ناکام تصدیق کے متبادل انتظامات کی تفصیل سامنے آنے پر اس کے عملی دائرے کا بہتر اندازہ ہوگا۔
پنشنرز کو کسی غیر مصدقہ لنک، فون کال یا پیغام پر شناختی معلومات، بایومیٹرک تصویر یا بینک کوڈ فراہم نہیں کرنا چاہیے۔ سرکاری ایپ یا ادارے کے تصدیق شدہ چینل سے ہی عمل شروع کرنا محفوظ ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز اس سہولت کی باضابطہ ایپ، اہلیت، معاونت اور شکایت کے طریقۂ کار کی دستاویزات دستیاب ہونے پر رپورٹ کو واضح ہدایات کے ساتھ اپ ڈیٹ کرے گا۔




