وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی میں مسافروں کی سہولت، حفاظت اور آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے متعدد منصوبے مرحلہ وار جاری ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق پارلیمانی سیکریٹری برائے دفاع راجا اسامہ سرور نے ایئرپورٹ کی حالت اور بنیادی سہولتوں سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں بتایا کہ ڈیجیٹل مسافر معلومات و اسکریننگ سافٹ ویئر متعارف کیا گیا ہے، جبکہ رن وے کی تیاری اور توسیع بھی مکمل شدہ اقدامات میں شامل ہے۔

بریفنگ کے مطابق رات کے وقت لینڈنگ میں سہولت اور آپریشنل حفاظت کے لیے نیا روشنی نظام نصب کیا گیا۔ ایک نیا رن وے تقریباً آٹھ ماہ پہلے مکمل ہونے اور 38 طیاروں کو سنبھالنے کی گنجائش رکھنے کا دعویٰ بھی کیا گیا، جبکہ دو ٹیکسی ویز کا مقصد طیاروں کی آمد اور لینڈنگ کے عمل میں وقت کم کرنا بتایا گیا۔ یہ اعداد پارلیمانی جواب میں دیے گئے ہیں؛ آزاد آپریشنل ڈیٹا دستیاب خبر میں شامل نہیں۔

آئندہ اور جاری کاموں میں ہائی جیکنگ یا دوسرے سکیورٹی خطرات کے لیے الگ آئسولیشن بے، ایئر ٹریفک کنٹرول عمارت کی بہتری، بیگیج ہینڈلنگ نظام کی اپ گریڈیشن اور نئے اے ٹی سی ٹاور کا منصوبہ شامل ہے۔ پارلیمانی سیکریٹری نے کہا کہ نئے ٹاور کی مشاورت مکمل ہو چکی اور کام شروع ہو گیا ہے۔ تاہم کسی مجموعی بجٹ، ٹھیکے کی تفصیل یا تمام منصوبوں کی حتمی تکمیل تاریخ نہیں بتائی گئی۔

ٹرمینل کی اگلی بہتری میں ٹائلوں کی تبدیلی، کاؤنٹرز اور اندرونی روشنی بہتر کرنا، پارکنگ کی گنجائش تین گنا تک بڑھانا اور بین الاقوامی مسافروں کی پروسیسنگ سہولتوں میں وسعت شامل بتائی گئی۔ تمام بیت الخلا کی مرمت، آگ بجھانے اور آگ سے تحفظ کے نظام کی مضبوطی اور پانی کے متبادل ذریعے کی فراہمی بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ ای گیٹس اہل مسافروں کو اخراج کے مراحل زیادہ آسانی سے مکمل کرنے کے لیے متعارف کرانے کی تجویز ہے۔

کراچی ایئرپورٹ کو مکمل طور پر بند کیے بغیر کام کرنا بنیادی عملی رکاوٹ ہے، اس لیے منصوبے الگ مراحل میں مکمل کیے جا رہے ہیں۔ دفاعی حکام کے مطابق ایئرپورٹ کے ساتھ تقریباً 1,600 ایکڑ خالی زمین موجود ہے اور مستقبل کی توسیع کے لیے مزید جگہ بھی دستیاب ہو سکتی ہے، اس لیے موجودہ مقام منتقل کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ یہ مؤقف سرکاری بریفنگ کا حصہ ہے؛ زمین کے استعمال کا کوئی نیا قانونی فیصلہ موجودہ خبر میں نہیں دیا گیا۔

منصوبہ بندی میں ایک بڑے کارگو مرکز کا تصور بھی شامل ہے جہاں بینک، شپنگ کمپنیاں اور دوسرے متعلقہ ادارے ایک جگہ خدمات فراہم کر سکیں۔ اس سے برآمد و درآمدی عمل اور کراچی کے کارگو کردار کو بہتر بنانے کی توقع ظاہر کی گئی، مگر مرکز کی لاگت، مقام اور عملی ٹائم لائن ابھی واضح نہیں۔ مسافروں کے لیے اصل پیش رفت کا پیمانہ مکمل شدہ کام، قابلِ اعتماد سہولتیں، انتظار کے اوقات اور حفاظتی کارکردگی ہوں گے؛ اردو ہیڈ لائنز ان اقدامات کی تکمیل کو متعلقہ اداروں کے باضابطہ ریکارڈ کے بعد الگ طور پر اپ ڈیٹ کرے گا۔