وفاقی کابینہ نے قومی نوعمر اور نوجوان پالیسی کی اصولی منظوری دے دی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں وزارتِ بین الصوبائی رابطہ کی سفارش پر پیش ہونے والے فریم ورک کو نوجوانوں کے لیے معاشی اور سماجی مواقع بہتر بنانے کی سمت ایک قدم قرار دیا گیا۔ اصولی منظوری کا مطلب یہ ہے کہ کابینہ ارکان کی تجاویز شامل کرنے کے بعد پالیسی حتمی شکل اختیار کرے گی؛ موجودہ مرحلے کو مکمل نفاذ نہیں سمجھنا چاہیے۔
پالیسی کے چار بنیادی ستون تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحول بتائے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مقصد نوجوانوں کو سرکاری پالیسی سازی میں مرکزی جگہ دینا اور مختلف علاقوں و سماجی گروہوں کے لیے زیادہ مساوی مواقع پیدا کرنا ہے۔ دستیاب کابینہ رپورٹ میں ہر ستون کے لیے الگ بجٹ، قانونی حق، صوبائی ذمہ داری یا نتائج کی مقررہ مدت شامل نہیں، اس لیے عملی اثر آئندہ نفاذی منصوبوں سے واضح ہوگا۔
فریم ورک پر عمل کے لیے پاکستان یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل اور وفاقی نوعمر و نوجوان ایجنسی قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ ادارے کس قانون، انتظامی ڈھانچے، بجٹ اور جواب دہی کے تحت کام کریں گے، اس کی مکمل تفصیل موجودہ بیان میں نہیں دی گئی۔ ان کے قیام اور اختیارات کی حتمی صورت باضابطہ نوٹیفکیشن، قواعد یا قانون سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
کابینہ کو بتایا گیا کہ پالیسی کی تیاری میں ملک بھر میں 32,145 سروے کیے گئے اور دو لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کی آرا شامل کی گئیں۔ سرکاری ریکارڈ میں اس پالیسی کے لیے مختلف شہروں، جامعات، مدارس، فنی اداروں اور دیگر گروہوں کے ساتھ مشاورتی عمل کا ذکر پہلے بھی آ چکا ہے۔ تاہم سروے کے مکمل سوال نامے، نمونہ بندی، صوبائی تقسیم اور عوامی ڈیٹا سیٹ موجودہ خبر میں فراہم نہیں ہوئے، اس لیے نمائندگی کے معیار کا آزادانہ تجزیہ ابھی ممکن نہیں۔
وزیر اعظم نے کابینہ ارکان کی تجاویز حتمی پالیسی میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس نے سرکاری اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 9 جولائی، اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 14 اگست اور قانون سازی مقدمات کی کابینہ کمیٹی کے جون و اگست میں ہونے والے مختلف اجلاسوں کے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔ یہ فیصلے کابینہ اجلاس کے دوسرے ایجنڈا نکات ہیں اور نوجوان پالیسی کے نفاذی اقدامات کے طور پر نہیں گنے جانے چاہییں۔
نوجوان پالیسی کی کامیابی کا قابلِ پیمائش معیار صرف منظوری نہیں بلکہ تعلیم و مہارت تک رسائی، باعزت روزگار، کمزور گروہوں کی شمولیت، ماحولیاتی مواقع اور وفاق و صوبوں کے درمیان واضح ذمہ داری ہوگا۔ اگلے اہم دستاویزات حتمی پالیسی متن، اداروں کے قیام کے نوٹیفکیشن، بجٹ اور عوامی نگرانی کے اشاریے ہوں گے۔ اردو ہیڈ لائنز ان میں سے ہر پیش رفت کو باضابطہ ریکارڈ کے مطابق اپ ڈیٹ کرے گا۔




