راولپنڈی: چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکا کے افغانستان وار کمیشن کے وفد سے ملاقات میں کہا ہے کہ افغانستان میں امریکا کی دو دہائیوں پر محیط جنگ کا جائزہ لیتے وقت علاقائی ممالک کے تجربات اور پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ملاقات 28 ستمبر کو جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں ہوئی۔
آئی ایس پی آر کے بیان، جسے ڈان اور جیو نیوز نے رپورٹ کیا، کے مطابق امریکی وفد کی قیادت کمیشن کی شریک سربراہان شمائلہ این چوہدری اور ڈاکٹر کولن ایف جیکسن نے کی۔ گفتگو میں پاکستان کی جانب سے افغان جنگ کے دوران دی جانے والی معاونت، خطے کی سکیورٹی صورت حال اور افغانستان میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سمیت وہ امور زیر بحث آئے جو کمیشن کے جائزے سے متعلق ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وفد کو ان سکیورٹی عوامل کے بارے میں پاکستان کا نقطہ نظر بتایا جنہوں نے طویل افغان تنازع کو متاثر کیا، اور ان مشکلات کا ذکر کیا جن کا پاکستان نے اس عرصے میں سامنا کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا کے سیاسی، سفارتی اور عسکری فیصلوں کا جائزہ صرف واشنگٹن یا افغانستان کے اندرونی تناظر تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ہمسایہ ممالک اور علاقائی اثرات کو بھی دیکھا جائے۔ یہ نکات پاکستانی فوجی قیادت کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق امریکی وفد نے افغان تنازع کے دوران پاکستان کے کردار اور قربانیوں کو تسلیم کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے اسلام آباد کی شراکت کی تعریف کی۔ اس بیان میں کمیشن کی جانب سے کسی حتمی نتیجے، ذمہ داری کے تعین یا سفارش کا اعلان نہیں کیا گیا؛ ملاقات اس جاری تحقیقی عمل کا حصہ تھی جس میں کمیشن مختلف متعلقہ فریقوں سے معلومات اور نقطہ نظر جمع کر رہا ہے۔
امریکی کانگریس نے افغانستان وار کمیشن 2021 میں قائم کیا تھا تاکہ جون 2001 سے اگست 2021 تک افغانستان میں امریکا کی 20 سالہ مداخلت سے متعلق اہم فیصلوں، پالیسیوں اور نتائج کا آزادانہ جائزہ لیا جا سکے۔ پاکستان کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات اسی وسیع جائزے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کمیشن کی حتمی رپورٹ یا اس میں پاکستان کے مؤقف کو کس انداز میں شامل کیا جائے گا، اس بارے میں ملاقات کے وقت کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا تھا۔

