مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) نے 60 ارب روپے سے زائد مجموعی لاگت کے پانچ ترقیاتی منصوبوں کو کلیئر کر دیا ہے، جن میں گوادر کے لیے میرانی ڈیم سے پانی کی فراہمی، کراچی میں شہری ترقی کا منصوبہ، گلگت میں میڈیکل و نرسنگ کالج، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا کیمپس اور ضلع اورکزئی میں سڑک کی تعمیر شامل ہیں۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق گوادر کے پانی کے منصوبے میں میرانی ڈیم سے شہر تک تقریباً 125 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے ذریعے پانی پہنچانے کی تجویز شامل ہے۔ اجلاس میں گوادر میں استعمال شدہ پانی کے ٹریٹمنٹ سے متعلق مطالعہ کرانے کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ سیوریج کے سمندر میں اخراج اور ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب حل تیار کیا جا سکے۔

کراچی سے متعلق منصوبے میں بیرونی مالی معاونت کا عنصر شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کے لیے عالمی بینک کی 85 ملین ڈالر کی فنانسنگ اور سندھ حکومت کی 2.8 ارب روپے کی شراکت تجویز کی گئی ہے۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے غیر ملکی مالی معاونت سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی، شفافیت اور جواب دہی بہتر بنانے کے لیے پلاننگ کمیشن کے متعلقہ ارکان اور اقتصادی امور ڈویژن کے نمائندے پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ بھی کیا۔

تین نسبتاً چھوٹے منصوبوں کی مجموعی تخمینی لاگت 11.714 ارب روپے بتائی گئی۔ ان میں گلگت میں میڈیکل اور نرسنگ کالج کے قیام کا منصوبہ 4.924 ارب روپے، اسلام آباد کے ڈیفنس کمپلیکس میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ایف سی ایس کیمپس کا منصوبہ 2.75 ارب روپے اور ضلع اورکزئی میں زیرا سے دبوری تک 53.4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر کا منصوبہ 4.037 ارب روپے شامل ہے۔

اورکزئی سڑک کے منصوبے کے بارے میں وزیر منصوبہ بندی نے ہدایت کی کہ موسم سرما سے پہلے فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ تعمیراتی کام آگے بڑھایا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ 2016 سے تاخیر کا شکار رہا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی منظوری یا کلیئرنس کے مراحل میں مالی، انتظامی اور عمل درآمد سے متعلق مزید سرکاری کارروائی بھی درکار ہو سکتی ہے، اس لیے سی ڈی ڈبلیو پی کی کلیئرنس کو ہر منصوبے کی فوری تکمیل یا مکمل فنڈنگ کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

ان منصوبوں کا دائرہ پانی، شہری بنیادی ڈھانچے، طبی تعلیم، اعلیٰ تعلیم اور سڑکوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اجلاس میں خاص طور پر بیرونی فنڈنگ والے منصوبوں کی نگرانی کے لیے فریم ورک بنانے پر زور دیا گیا، جو بڑے ترقیاتی اخراجات میں شفافیت اور نتائج کی پیمائش سے متعلق حکومتی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔