خیبرپختونخوا حکومت اور وفاقی پاور ڈویژن کے درمیان پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگیوں پر اعداد و شمار کا واضح اختلاف سامنے آیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے وفاق کو لکھے گئے مراسلے میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران خیبرپختونخوا کو 87.8 ارب روپے اور پنجاب کو 160.8 ارب روپے ادا کیے گئے، حالانکہ صوبے کے بقول ملک کی پن بجلی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 70 فیصد ہے۔ پاور ڈویژن نے ان اعداد و شمار کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ مالی سال میں پنجاب کو 96.8 ارب نہیں بلکہ 23 ارب روپے ملے تھے۔

صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ آئین کے آرٹیکل 161(2) کے تحت کسی پن بجلی گھر سے وفاق کو حاصل ہونے والا خالص منافع اسی صوبے کو ادا ہونا چاہیے جہاں یہ بجلی گھر واقع ہو۔ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ادائیگیوں کی موجودہ تقسیم اس آئینی اصول سے مطابقت نہیں رکھتی اور اس کے نتیجے میں صوبے کے واجبات بڑھ رہے ہیں۔ صوبائی مراسلے میں اگست 2026 تک 22.6 ارب روپے کا باقاعدہ خالص منافع اور پانچ فیصد اشاریہ بندی کی مد میں 56.1 ارب روپے کے بقایاجات ملا کر 78.7 ارب روپے واجب الادا ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔

پاور ڈویژن کے ترجمان نے مختلف تصویر پیش کی۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے آغاز پر خیبرپختونخوا کا بقایا 53 ارب اور پنجاب کا 44 ارب روپے تھا، جبکہ سال کے دوران بالترتیب 33 ارب اور 11 ارب روپے مزید بنے۔ ترجمان نے کہا کہ واپڈا کو دستیاب 56 ارب روپے میں سے 33 ارب خیبرپختونخوا اور 23 ارب پنجاب کو ادا کیے گئے، اس لیے پنجاب کو 96.8 ارب روپے دیے جانے کا دعویٰ درست نہیں۔ یہ وفاقی وضاحت صوبائی مراسلے میں دیے گئے تین سالہ مجموعی اعداد و شمار سے مختلف مدت اور حسابی بنیاد بیان کرتی ہے، جس کی مکمل مصالحت دستیاب رپورٹ میں نہیں دی گئی۔

خیبرپختونخوا کے محکمہ اطلاعات کی 31 اگست کی الگ سرکاری اطلاع میں صوبائی توانائی و بجلی مشاورتی کمیٹی کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے وفاق سے 27 ارب روپے کے واجبات کی وصولی کے لیے مختلف فورمز سے رجوع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ یہ رقم ٹریبیون کی رپورٹ میں بیان کردہ 78.7 ارب روپے سے مختلف ہے اور سرکاری اطلاع میں دونوں اعداد کے دائرۂ حساب کی مصالحت موجود نہیں۔ اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ جاری منافع، مختلف نوعیت کے بقایاجات اور اشاریہ بندی کے دعووں کو ایک ہی رقم تصور نہیں کیا جا سکتا۔

خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ 2024-25 میں صوبے نے 21.4 ارب یونٹ پن بجلی پیدا کی، جس میں تربیلا، ورسک، خان خواڑ، الائی خواڑ، دوبر خواڑ اور گولن گول منصوبے شامل ہیں۔ اس کے مقابلے میں پنجاب کی پن بجلی پیداوار آٹھ ارب یونٹ بتائی گئی، جس کا بڑا حصہ غازی بروتھا منصوبے سے آیا۔ صوبائی حکومت نے وفاق سے ادائیگیوں کی منصفانہ تقسیم، بقایاجات کے تصفیے اور آئینی فارمولے کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق واپڈا نے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹیڈ سے ماہانہ 17 ارب روپے جاری کرنے کی درخواست کی ہے، جبکہ دونوں صوبوں کے خالص پن بجلی منافع کی مجموعی ماہانہ ضرورت تقریباً چھ ارب روپے بتائی گئی۔ صوبائی مؤقف ہے کہ ادائیگیوں میں تاخیر اس کی مالی پوزیشن اور ترقیاتی و انتظامی اخراجات کو متاثر کر رہی ہے۔ پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ سی پی پی اے جی واپڈا کو نیپرا سے منظور شدہ ٹیرف نظام کے تحت رقم منتقل کرتی ہے اور واپڈا اپنی دستیاب آمدن میں سے مختلف ذمہ داریوں کے لیے وسائل مختص کرتا ہے۔

دونوں جانب سے جاری کیے گئے مختلف اعداد و شمار فی الحال دعووں اور جوابی مؤقف کی صورت میں ہیں؛ کسی آزاد آڈٹ یا مشترکہ مصالحتی حساب کا نتیجہ دستیاب رپورٹ میں شامل نہیں۔ اس لیے 78.7 ارب روپے کے بقایاجات اور پنجاب کو مجموعی ادائیگیوں کو صوبائی دعویٰ، جبکہ 33 اور 23 ارب روپے کی گزشتہ مالی سال کی تقسیم کو وفاقی وضاحت کے طور پر ہی پڑھا جانا چاہیے۔ تنازع کا حتمی حل مشترکہ حساب، ادائیگی ریکارڈ اور آئینی طریقۂ کار پر دونوں حکومتوں کے اتفاق سے واضح ہوگا۔

— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک