پاکستان کی زرعی اور غذائی برآمدات بڑھانے کی کوششوں کے ساتھ مقامی منڈی میں رسد اور قیمتوں کے استحکام پر نئی بحث سامنے آئی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب نے دو سال میں باہمی زرعی و غذائی تجارت، خصوصاً پاکستانی برآمدات، کو 3 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان سالانہ تقریباً ایک لاکھ 69 ہزار ٹن چاول سعودی عرب کو بھیجتا ہے جس کی مالیت 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کے قریب ہے، جبکہ سرخ گوشت کی برآمد تقریباً 30 ہزار ٹن اور مالیت 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر بتائی گئی ہے۔ دونوں شعبوں میں حجم دگنا کرنے کے امکانات زیرِ غور ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی زرعی و غذائی برآمدات 8 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ چین کے لیے تل کی برآمد 40 کروڑ ڈالر سے زیادہ جبکہ متحدہ عرب امارات کے لیے چارے کی برآمد 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے اوپر بتائی گئی۔ یہ اعداد اس شعبے میں زرمبادلہ کمانے کی گنجائش دکھاتے ہیں، مگر پیداوار میں موسمیاتی دباؤ، پانی کی دستیابی، مہنگی توانائی، کھاد اور قرض تک محدود رسائی بڑے عملی مسائل ہیں۔ ایک ہی فصل کی کم پیداوار یا عالمی قیمت میں اچانک تبدیلی برآمدی معاہدوں اور مقامی رسد دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں شامل کاروباری نمائندوں اور ماہرین نے خبردار کیا کہ واضح پالیسی اور پیداوار بڑھانے کے اقدامات کے بغیر تیز برآمدی توسیع بعض اشیا کی مقامی قلت یا قیمت میں اضافے کا خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔ یہ خدشات آرا اور تجزیات ہیں، کسی ثابت شدہ موجودہ قلت کا اعلان نہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ برآمدی اجازت، مقامی ذخیرے، معیار، ٹریس ایبلٹی اور چھوٹے کسانوں کی شمولیت کے اصول پہلے سے واضح ہوں، تاکہ پالیسی میں بار بار تبدیلی کاروبار اور کاشت کار دونوں کے فیصلوں کو نقصان نہ پہنچائے۔
زرعی برآمدات کا پائیدار راستہ صرف خام پیداوار باہر بھیجنے کے بجائے پروسیسنگ، پیکیجنگ، کولڈ چین اور معیار کی تصدیق میں سرمایہ کاری سے جڑا ہے۔ اس سے فی یونٹ زیادہ آمدن حاصل ہو سکتی ہے اور کم مقدار میں زیادہ قدر برآمد کرنا ممکن ہوتا ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو گھریلو کھپت، فصل کے تخمینے اور ضروری ذخیرے کا بروقت ڈیٹا جاری کرنا ہوگا۔ اگر برآمدی ہدف مقامی غذائی تحفظ، کسان کی مناسب قیمت اور صارف کے لیے دستیابی کے ساتھ جوڑا جائے تو 3 ارب ڈالر کا ہدف وسیع زرعی اصلاحات کا محرک بن سکتا ہے؛ بصورت دیگر پالیسی کا بوجھ کمزور فریقوں پر منتقل ہونے کا خدشہ رہے گا۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




