وفاقی حکومت نے برآمد کنندگان کو ادائیگی نہ ہونے اور تجارتی خطرات سے تحفظ دینے کے لیے دو مالی انتظامات کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق پاکستان ایکسپورٹ امپورٹ بینک اور اسلامی کارپوریشن برائے سرمایہ کاری و برآمدی قرضہ بیمہ کے درمیان ری انشورنس معاہدہ طے پایا ہے۔ اس انتظام کا مقصد برآمدی قرضہ بیمہ کی گنجائش بڑھانا اور پاکستانی کاروباروں کو بیرونِ ملک خریدار کی جانب سے عدم ادائیگی جیسے خطرات کے مقابل زیادہ تحفظ دینا ہے۔

دوسرا انتظام ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور پاک ایکزم بینک کے اشتراک سے ایس ایم ای رسک پول کا ہے، جس کا حجم تقریباً 3 ارب روپے بتایا گیا ہے۔ یہ سہولت خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کے ایسے کاروباروں کے لیے بنائی گئی ہے جنہیں محدود ضمانت، کم کریڈٹ تاریخ یا بیرونی منڈیوں کے خطرے کے باعث روایتی بینک فنانسنگ تک رسائی میں مشکل پیش آتی ہے۔ رسک پول ممکنہ نقصان کا ایک حصہ جذب کر کے مالی اداروں کے لیے قابلِ قبول خطرے کی سطح بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم عملی اثر کا انحصار اہلیت، دعووں کے طریقۂ کار اور فنڈ کی شفاف تقسیم پر ہوگا۔

تقریب سے خطاب میں وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت برآمدی سرگرمیوں کو کم خطرے والا بنانے اور چھوٹے کاروباروں کی عالمی منڈی تک رسائی بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے مالی سال 2025-26 کے لیے 3.7 فیصد شرحِ نمو، 2.6 فیصد مالی خسارے اور مسلسل تین بنیادی سرپلسز کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق برآمدی فنانسنگ کی شرح 4.5 فیصد ہے، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی برآمدات تقریباً 4.6 ارب ڈالر اور فری لانسرز کی آمدن تقریباً 1.7 ارب ڈالر تک پہنچی۔ یہ حکومتی اعداد و مؤقف ہیں اور آئندہ سرکاری ڈیٹا کے ساتھ ان کی پیش رفت دیکھی جائے گی۔

پاکستانی برآمد کنندگان کے لیے صرف کم شرح پر قرض کافی نہیں ہوتا؛ خریدار کی ادائیگی، ملک کے خطرے، کرنسی اور آرڈر کی تکمیل جیسے عوامل بھی سرمایہ روک سکتے ہیں۔ ری انشورنس سے ایکزم بینک کی خطرہ برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھے تو وہ زیادہ منڈیوں اور زیادہ برآمد کنندگان کو کور دے سکتا ہے۔ اسی طرح 3 ارب روپے کا رسک پول نئے یا نسبتاً چھوٹے برآمد کنندگان کے لیے پہلی قابلِ استعمال مالی سہولت بن سکتا ہے۔ اب اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ دونوں معاہدوں کے تحت مصنوعات، اہلیت، فیس اور دعووں کی ادائیگی کے قواعد واضح اور قابلِ رسائی بنائے جائیں۔

— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک