عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی اور رسد میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات پر تقریباً 3 فیصد بڑھ گئی ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل 2.39 ڈالر، یعنی 2.71 فیصد اضافے کے ساتھ 90.49 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.36 ڈالر یا 2.83 فیصد بڑھ کر 85.76 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔ دن کے دوران برینٹ 91.52 ڈالر تک بھی گیا۔
قیمتوں میں اضافے کا فوری پس منظر امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیوں کا نیا سلسلہ اور خلیجی رسد کے تحفظ سے متعلق خدشات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں نظر آنے والی بحری آمدورفت تقریباً پانچ جہاز یومیہ تک محدود بتائی گئی، حالانکہ یہ راستہ معمول کے حالات میں عالمی تیل و گیس تجارت کے لیے نہایت اہم ہے۔ ایسی صورتحال میں منڈی صرف موجودہ جسمانی رسد نہیں بلکہ مستقبل میں ممکنہ تعطل کا خطرہ بھی قیمت میں شامل کرتی ہے۔
امریکی اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں 31 لاکھ بیرل کمی کے بعد ذخیرہ 28 کروڑ 66 لاکھ بیرل بتایا گیا، جس نے رسد کی تشویش میں اضافہ کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خارک جزیرے سے متعلق ایک دعویٰ کیا، تاہم رائٹرز کے مطابق اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی اور ایران نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کارروائیاں جاری ہیں۔ اس لیے خارک سے متعلق بیان کو تصدیق شدہ نتیجہ نہیں بلکہ متنازع سرکاری دعویٰ سمجھا جانا چاہیے۔
تیل کی قیمت میں یہ اضافہ پاکستان جیسے درآمدی ملک کے لیے اہم ہے، کیونکہ عالمی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت، ڈالر کے مقابل روپے کی قدر، مال برداری اور ٹیکس مقامی قیمتوں اور درآمدی بل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم ایک تجارتی دن کی عالمی حرکت سے مقامی نرخ میں عین اسی تناسب سے فوری تبدیلی لازم نہیں؛ سرکاری قیمت سازی کے دورانیے اور پہلے سے خریدے گئے کارگو بھی نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ آئندہ سمت کا انحصار خلیجی راستوں کی عملی دستیابی، فریقین کی فوجی کارروائیوں، سفارتی پیش رفت اور بڑے صارف ممالک کے ذخائر پر ہوگا۔ منڈی کے موجودہ ردعمل کو خطرے کی قیمت کہا جا سکتا ہے، نہ کہ طویل مدتی رسد کی حتمی تصویر۔
— اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




