کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کو فروخت کے دباؤ کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس 720.83 پوائنٹس، یا 0.41 فیصد، کم ہوکر 176,975.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، عالمی تیل کی قیمتوں میں تیزی اور محتاط سرمایہ کاری کے رجحان نے مارکیٹ پر دباؤ ڈالا۔

کاروبار کے آغاز کے چند منٹوں میں انڈیکس تقریباً 570 پوائنٹس نیچے گیا۔ دن کے دوران بلند ترین سطح 178,138.69 اور کم ترین سطح 176,944.91 رہی۔ آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل مارکیٹنگ، تیل و گیس کی تلاش، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں حصص فروخت ہوئے۔

رپورٹ میں مارکیٹ ماہر احمد شیراز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کے ایس ای 100 کی کمی کے دوران 494 ملین حصص کا کاروبار ہوا اور یونائیٹڈ بینک، سسٹمز لمیٹڈ، حبیب بینک اور لکی سیمنٹ نمایاں منفی اثر ڈالنے والے حصص میں شامل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تازہ کشیدگی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ سرمایہ کاروں کی محتاط حکمت عملی کا سبب بنا۔

اس عمومی کمزوری کے برخلاف ریفائنری شعبے میں خریداری دیکھی گئی۔ پاکستان ریفائنری اور نیشنل ریفائنری کے حصص بالائی حد تک پہنچے، جبکہ اٹک ریفائنری اور سنرجیکو میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ رپورٹ نے اس رجحان کو آئندہ ماہ متوقع پلانٹ اپ گریڈ معاہدوں سے وابستہ توقعات سے جوڑا، لیکن یہ مثبت کارکردگی مجموعی انڈیکس کی کمی روکنے کے لیے کافی نہیں تھی۔

مجموعی مارکیٹ میں 937 ملین حصص کا کاروبار ہوا، جو پچھلے سیشن کے 658 ملین حصص سے زیادہ تھا، جبکہ کاروباری مالیت 39 ارب روپے رہی۔ تیار مارکیٹ میں 503 کمپنیوں کے حصص کا لین دین ہوا؛ 169 میں اضافہ، 302 میں کمی اور 32 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ سنرجیکو 293 ملین حصص کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہا اور اس کا حصہ 1.05 روپے بڑھ کر 15.46 روپے پر بند ہوا۔

رپورٹ میں نیشنل کلیئرنگ کمپنی کے اعداد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 1.05 ارب روپے مالیت کے حصص فروخت کیے۔ انڈس موٹر نے مالی سال 2026 کے لیے 25.5 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع رپورٹ کیا، جو سال بہ سال 11 فیصد زیادہ تھا، جبکہ چوتھی سہ ماہی کا منافع 5 فیصد کم ہوکر 6.1 ارب روپے رہا۔ کمپنی نے چوتھی سہ ماہی کے لیے فی حصہ 47 روپے ڈیویڈنڈ کا اعلان بھی کیا۔

عارف حبیب لمیٹڈ کے علی نجیب کے مطابق مارکیٹ گزشتہ ہفتے کی محدود رینج والی کیفیت کے بعد مزید استحکام کے مرحلے میں رہی اور نتائج کے موسم میں مخصوص حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ متوقع ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست میں کے ایس ای 100 انڈیکس مجموعی طور پر صرف 0.5 فیصد اوپر بند ہوا، جو نئے محرکات کی کمی اور امریکا۔ایران مذاکرات میں محدود پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔

روزانہ کی یہ کمی کسی مستقل رجحان یا آئندہ منافع کی ضمانت نہیں۔ مارکیٹ کی اگلی سمت علاقائی حالات، خام تیل کی قیمت، افراط زر کی توقعات، کمپنی نتائج اور ملکی معاشی اعداد سے متاثر ہوسکتی ہے۔ موجودہ خبر کی تصدیق پیر کے اختتامی انڈیکس، تجارتی حجم اور رپورٹ شدہ شعبہ وار رجحان تک محدود ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک