اسلام آباد: پاکستان ریلوے نے روسی ریلوے کے لاجسٹکس ادارے آر زیڈ ڈی لاجسٹکس کے ساتھ فریٹ فارورڈنگ معاہدہ کیا ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی مال برداری، ریل پر مبنی تجارت اور کثیر ذرائع نقل و حمل کی خدمات میں تعاون کا فریم ورک قائم کرنا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی خبر پر مبنی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے اس پیش رفت کو پاکستان اور روس کے درمیان ریلوے تعاون، علاقائی رابطوں اور تجارتی راستوں کی توسیع سے جوڑا ہے۔
معاہدے کے تحت دونوں فریقوں نے پاکستان۔روس آزمائشی کنٹینر مال بردار ٹرین شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس منصوبے کا مجوزہ دائرہ پاکستان اور روس کے ساتھ وسطی ایشیائی ممالک تک ریل رابطہ مضبوط کرنا اور سامان کی بین الاقوامی ترسیل کے لیے باقاعدہ راستہ بنانا ہے۔ تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ علاقائی تنازع کے باعث آزمائشی ٹرین مقررہ وقت پر روانہ نہیں ہوسکی۔
پاکستان ریلوے اور آر زیڈ ڈی لاجسٹکس نے منصوبہ ترک کرنے کے بجائے رابطہ جاری رکھنے اور علاقائی حالات اجازت دیتے ہی آزمائشی سروس شروع کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دستیاب رپورٹ میں نئی روانگی کی حتمی تاریخ، راستے کے تمام اسٹیشن، کنٹینروں کی ابتدائی تعداد یا کرایوں کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت معاہدے، مجوزہ آزمائشی ٹرین اور اس کے التوا تک محدود ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق تعاون سے ریل کے ذریعے تجارت میں اضافہ، بین الاقوامی مال برداری کی خدمات کی توسیع اور لاجسٹکس کی مجموعی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ کثیر ذرائع نقل و حمل سے مراد ایسا نظام ہے جس میں سامان اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے ریل کے ساتھ سڑک، بندرگاہ یا دوسرے ذرائع بھی استعمال کرے۔ اس انتظام کی عملی افادیت کا انحصار سرحدی طریقہ کار، کسٹمز، وقت کی پابندی اور مسلسل آپریشن پر ہوگا۔
رپورٹ میں دونوں ملکوں کے درمیان فنی مہارت اور ریلوے فریٹ کے بہترین عملی طریقوں کے تبادلے کا بھی ذکر ہے۔ پاکستان ریلوے کے لیے بین الاقوامی فریٹ آپریشن بڑھانا آمدن کے نئے ذرائع اور موجودہ نیٹ ورک کے بہتر استعمال کا موقع بن سکتا ہے، مگر ان ممکنہ فوائد کو عملی نتیجہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ پائلٹ ٹرین ابھی شروع نہیں ہوئی۔
علاقائی رابطے کے تناظر میں یہ منصوبہ پاکستان کو وسطی ایشیا اور روس کے تجارتی راستوں سے زیادہ منظم طور پر جوڑنے کی کوشش ہے۔ ریل فریٹ بڑی مقدار میں سامان کی نسبتاً کم لاگت نقل و حمل کا امکان پیش کرتا ہے، تاہم روٹ کی دستیابی، سلامتی، سرحدی ہم آہنگی اور مختلف ممالک کے ریلوے نظاموں کے درمیان عملی مطابقت اہم عوامل رہیں گے۔
اگلی قابل تصدیق پیش رفت آزمائشی ٹرین کی نئی تاریخ، منظور شدہ راستے، سامان اور کنٹینروں کی تفصیل اور سفر مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گی۔ موجودہ مرحلے پر یہ کہنا درست ہے کہ تعاون کا معاہدہ ہوچکا ہے، دونوں فریق پائلٹ سروس پر متفق ہیں اور آغاز علاقائی صورت حال کے باعث مؤخر ہوا ہے۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




