اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی تازہ قیمتوں میں پیٹرول مہنگا جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل سستا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 77 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی خوردہ قیمت 342 روپے 79 پیسے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ 3 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی ہے اور نئی قیمت 370 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ نئی قیمتوں کا اطلاق منگل یکم ستمبر 2026 سے کیا گیا ہے۔

ڈان کے مطابق حکومت اس وقت پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ حالیہ مہینوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل اپریل کے آغاز میں 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر کی بلند سطح تک پہنچا تھا، جبکہ پیٹرول بھی اسی عرصے میں 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر تک گیا تھا۔ موجودہ نرخ ان بلند ترین سطحوں سے کم ہیں، تاہم صارفین کے لیے ایندھن کی لاگت اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

حکومت نے اس سے قبل عالمی قیمتوں میں تیز تبدیلی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ روزانہ بنیادوں پر طے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق کابینہ اور وزیراعظم نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کو عالمی منڈی کے رجحانات کی بنیاد پر روزانہ قیمتوں کے تعین کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے مارچ کے آغاز سے قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کیا جا رہا تھا، جبکہ ممکنہ رسدی رکاوٹوں کے پیش نظر ایندھن کے تحفظ اور مخصوص طبقوں کے لیے ہدفی ریلیف کے اقدامات بھی سامنے آئے تھے۔

پیٹرول بنیادی طور پر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چھوٹی ٹرانسپورٹ میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہ راست متوسط اور کم آمدنی والے گھرانوں کے سفری اخراجات پر اثر ڈال سکتا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بعض بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، لہٰذا اس کی قیمت میں کمی مال برداری اور دیگر کاروباری لاگت پر کسی حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل ملک میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات میں شامل ہیں، اس لیے ان کے نرخوں میں تبدیلی مہنگائی، ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل کے اخراجات کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔