اسلام آباد: وفاقی حکومت نے یکم ستمبر 2026 کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 77 پیسے فی لیٹر اضافہ اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 3 پیسے فی لیٹر کمی کردی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں پیٹرول کی نئی قیمت 342 روپے 79 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 370 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ یہ نرخ یکم ستمبر کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سے پہلے 29 سے 31 اگست تک کے لیے پیٹرول 58 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 17 پیسے فی لیٹر سستا کیا گیا تھا۔ نئی تبدیلی میں دونوں بڑی مصنوعات کی سمت یکساں نہیں رہی: موٹر سائیکلوں اور پیٹرول استعمال کرنے والی گاڑیوں کے صارفین کے لیے معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ مال برداری، بسوں، زرعی مشینری اور ڈیزل استعمال کرنے والی دوسری سرگرمیوں سے وابستہ صارفین کے لیے فی لیٹر قیمت قدرے کم ہوئی ہے۔ یہ وضاحت صرف نرخوں کی نوعیت بیان کرتی ہے؛ کسی مخصوص شے کے کرائے یا قیمت میں لازمی تبدیلی کا دعویٰ نہیں کیا جا رہا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق حکومت نے گزشتہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے لیے یومیہ جائزے اور نوٹیفکیشن کا طریقہ متعارف کرایا تھا، جس نے ہفتہ وار طریقۂ کار کی جگہ لی۔ اس لیے صارفین اور کاروباری اداروں کے لیے ضروری ہے کہ ہر نئی تاریخ کے سرکاری نوٹیفکیشن کو الگ دیکھا جائے؛ یکم ستمبر کے نرخ کسی طویل مدت کے لیے مستقل قیمت قرار نہیں دیے گئے۔
رپورٹ نے عالمی منڈی میں خام تیل کی حالیہ تیزی کا بھی حوالہ دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور رسد میں خلل کے خدشات کے دوران برینٹ اور امریکی خام تیل کے نرخ پیر کو دو فیصد سے زیادہ بڑھے۔ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی قیمت، مال برداری اور زرمبادلہ کی صورت حال ملکی لاگت پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ تاہم یومیہ سرکاری قیمت کا حتمی ثبوت متعلقہ تاریخ کا نوٹیفکیشن ہی ہے۔
پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان کی درآمدی ادائیگیوں، ٹرانسپورٹ لاگت اور عمومی مہنگائی سے جڑی اہم مصنوعات ہیں۔ قیمت میں چند پیسوں کی تبدیلی فی لیٹر محدود دکھائی دے سکتی ہے، لیکن بڑے پیمانے پر استعمال کرنے والے کاروبار اپنی مجموعی لاگت کا حساب نئی سرکاری قیمت کے مطابق کرتے ہیں۔ اردو ہیڈ لائنز آئندہ تبدیلی کو نئی اطلاع کے طور پر اسی وقت رپورٹ کرے گا جب متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن یا معتبر خبر رساں رپورٹ دستیاب ہوگی۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




