اشیویل: امریکی شہر اشیویل میں جی20 ممالک کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے سربراہان کا دو روزہ اجلاس شروع ہوگیا ہے، جس میں عالمی معاشی نمو، بڑھتے قرض، تجارتی عدم توازن، توانائی کی صورت حال اور ایران پر اقتصادی دباؤ جیسے موضوعات زیرِ بحث ہیں۔ ایکسپریس اردو کی رپورٹ کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے افتتاحی گفتگو میں عالمی معیشت کی رفتار بڑھانے پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ عالمی معیشت کئی برس سے اپنی ممکنہ رفتار سے کم ترقی کر رہی ہے اور بڑھتے قرضوں سے نکلنے کے لیے معاشی نمو میں اضافہ ضروری ہے۔ خبر میں عالمی قرض کا تخمینہ تقریباً 353 ٹریلین ڈالر بتایا گیا ہے۔ یہ رپورٹ شدہ مجموعی تخمینہ ہے؛ مختلف بین الاقوامی ادارے قرض کی تعریف، شامل ممالک اور پیمائش کی تاریخ کے لحاظ سے الگ اعداد پیش کرسکتے ہیں۔
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے عالمی سرمایہ کاری کے نئے مرحلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کے مواقع میں اضافہ ماضی کے زائد عالمی بچت کے رجحان کو تبدیل کر رہا ہے۔ یہ ان کا معاشی جائزہ ہے، مستقبل کی نمو یا سرمایہ کاری میں یقینی اضافے کی ضمانت نہیں۔ شرحِ سود، مہنگائی، توانائی کی قیمتیں اور جغرافیائی کشیدگی اجلاس کے پالیسی مباحث پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
چین کے ساتھ تجارت کے معاملے پر بیسنٹ نے جی20 ملکوں پر زور دیا کہ وہ موجودہ تجارتی شرائط کا جائزہ لیں اور ضرورت پڑنے پر مزید تجارتی رکاوٹوں پر غور کریں۔ رپورٹ میں چین کا تجارتی سرپلس تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر بتایا گیا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ کا مؤقف تھا کہ چین کو برآمدات پر انحصار کم کرکے داخلی کھپت بڑھانی چاہیے، جبکہ صنعتی سبسڈیز اور کمزور اندرونی طلب کو بھی عالمی سطح پر زیرِ بحث لایا جائے۔ یہ امریکی پالیسی مؤقف ہے، جی20 کا متفقہ فیصلہ نہیں۔
ایران کے بارے میں رپورٹ کہتی ہے کہ امریکا اتحادی ملکوں سے مزید پابندیوں، ایرانی بینکوں کے خلاف اقدامات اور ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ کرنے کی حمایت چاہتا ہے۔ بیسنٹ نے اقتصادی دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کی صورت حال اور عالمی تیل کی قیمتوں کو مدنظر رکھنے کی ضرورت بھی تسلیم کی۔ پابندیوں کی حتمی شکل، شریک ملکوں کی حمایت اور نفاذ کی تاریخ ابھی رپورٹ میں طے شدہ نتیجے کے طور پر سامنے نہیں آئی۔
جی20 اجلاس پالیسی گفتگو اور ممکنہ مشترکہ اعلامیے کا فورم ہے، مگر ہر بیان فوری قانونی یا مالی اقدام نہیں بنتا۔ قابلِ تصدیق اگلی پیش رفت اجلاس کے حتمی اعلامیے، قرض یا نمو سے متعلق مشترکہ عزم، چین کے بارے میں متفقہ زبان، یا ایران سے متعلق کسی باقاعدہ پابندی کے اعلان کی صورت میں ہوگی۔ اردو ہیڈ لائنز امریکی تجاویز، جی20 اتفاقِ رائے اور نافذ شدہ فیصلے کو الگ الگ رپورٹ کرے گا۔ — اردو ہیڈ لائنز ڈیسک




