اسلام آباد: مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے خیبر پختونخوا میں تقریباً 100 ارب روپے مالیت کے تین بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی، ایکنک، کو بھیج دیے ہیں۔ اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی اور ملک بھر کے مجموعی طور پر 14 منصوبوں پر غور کیا گیا، جن کی تخمینی لاگت 226.48 ارب روپے ہے۔

خیبر پختونخوا کے منصوبوں میں سب سے بڑا ریزیلینٹ اریگیٹڈ ایگریکلچر لائیولی ہڈز ڈیولپمنٹ پراجیکٹ ہے، جس کی لاگت 69.893 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک 56.133 ارب روپے، تقریباً 200 ملین ڈالر، فراہم کرے گا جبکہ صوبائی حکومت 11.692 ارب روپے کے ساتھ زمین کے حصول کی ذمہ داری بھی پوری کرے گی۔ منصوبے میں پیہور مین کینال کی بحالی، ملکھو آبپاشی تقسیم نظام کی تعمیر اور پیہور ہائی لیول کینال کی توسیع شامل ہے۔

دوسرا بڑا منصوبہ وزیراعظم کی ضم اضلاع کے لیے شمسی توانائی اسکیم ہے، جس کی تخمینی لاگت 13.323 ارب روپے ہے۔ اسے بھی ایکنک کی منظوری کے لیے بھیجا گیا ہے۔ اسکیم کا مقصد نئے ضم شدہ اضلاع کے گھرانوں کو آف گرڈ سولر توانائی کے حل فراہم کرنا ہے، جہاں بجلی کی روایتی ترسیلی سہولت محدود یا غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔

تیسرا منصوبہ قومی شاہراہ این-45 کے چکدرہ تا تیمرگرہ 39 کلومیٹر حصے کی بہتری اور توسیع ہے، جس کی لاگت 17.012 ارب روپے بتائی گئی ہے۔ منصوبے کے لیے غیر ملکی مالی معاونت ایکسِم بینک کے ذریعے حاصل کرنے کی تجویز ہے۔ یہ سڑک چکدرہ، تیمرگرہ، دیر اور چترال کے درمیان اہم زمینی رابطہ ہے اور منصوبے سے تجارت، سڑک کی حفاظت اور کالاش، شندور اور کمراٹ جیسے سیاحتی علاقوں تک رسائی بہتر بنانے کی توقع ہے۔

اجلاس میں خیبر پختونخوا کے علاوہ پنجاب میں 85.342 ارب روپے کے انٹیگریٹڈ ہِل ٹورنٹ مینجمنٹ منصوبے کو بھی ایکنک کے لیے تجویز کیا گیا۔ ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں اس منصوبے کے تحت جدید سیلابی آبپاشی، حفاظتی چینلز، ٹیلی میٹری اور مرکزی نگرانی کے نظام نصب کیے جائیں گے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اس منصوبے کے لیے تقریباً 260 ملین ڈالر فراہم کرے گا۔

سی ڈی ڈبلیو پی نے اپنی مالی حد کے اندر دس نسبتاً چھوٹے منصوبے بھی منظور کیے، جن کی مجموعی لاگت 40.9 ارب روپے ہے۔ ان میں لاہور کے شاہدرہ میں امامیہ کالونی ریلوے کراسنگ پر آٹھ لین اوورہیڈ برج، مختلف علاقوں میں دانش اسکول، نوجوانوں کے ترقیاتی اور کھیلوں کے پروگرام، پاکستان ٹیلی ویژن کی جدید کاری اور جھمپیر گرڈ اسٹیشن پر بیٹری انرجی اسٹوریج کے پائلٹ منصوبے شامل ہیں۔ بڑے منصوبوں پر عملی کام ایکنک کی باقاعدہ منظوری اور متعلقہ مالی انتظامات کے بعد آگے بڑھے گا۔