اسلام آباد: مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستان کا نو علاقائی ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ بڑھ کر 4.97 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 26.62 فیصد زیادہ ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق علاقائی تجارت میں درآمدات کا حجم برآمدات کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہا، جس سے مجموعی تجارتی توازن مزید منفی ہوا۔
جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران پاکستان کی چین، بنگلہ دیش، افغانستان، سری لنکا، بھارت، نیپال، بھوٹان، مالدیپ اور ایران کے ساتھ مجموعی تجارت میں چین بدستور سب سے بڑا شراکت دار رہا۔ چین سے درآمدات میں اضافہ علاقائی تجارتی خسارے کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ بنا، جبکہ بعض اہم منڈیوں خصوصاً افغانستان اور بنگلہ دیش کو پاکستانی برآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ساتھ تجارت بڑھانے کی پالیسی کے باوجود پاکستان کی برآمدی کارکردگی مختلف منڈیوں میں یکساں نہیں رہی۔ افغانستان روایتی طور پر پاکستانی خوراک، ادویات، سیمنٹ اور دیگر اشیا کے لیے اہم مارکیٹ رہا ہے، تاہم سرحدی اور تجارتی رکاوٹیں تجارت کے حجم پر اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی تعلقات میں بہتری کی کوششوں کے باوجود زیر جائزہ سہ ماہی میں برآمدی قدر میں کمی سامنے آئی۔
چین کے ساتھ پاکستان کی تجارت کا حجم دیگر علاقائی ممالک سے کہیں بڑا ہے۔ سی پیک اور آزاد تجارتی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط وسیع ہوئے ہیں، لیکن پاکستانی درآمدات میں مشینری، برقی آلات، صنعتی خام مال اور دیگر مصنوعات کا بڑا حصہ ہونے کے باعث دوطرفہ تجارت کا توازن مسلسل چین کے حق میں رہتا ہے۔ حکومت اور برآمدی شعبے کے لیے چینی منڈی تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھانا ایک اہم پالیسی چیلنج ہے۔
علاقائی تجارت میں بھارت کے ساتھ رسمی تجارت محدود سطح پر ہے، جبکہ ایران کے ساتھ تجارت میں بھی بینکاری، پابندیوں اور غیر رسمی سرحدی تجارت سے متعلق مسائل موجود ہیں۔ سری لنکا کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کے باوجود مجموعی حجم نسبتاً محدود ہے۔ ان حالات میں پاکستان کے لیے علاقائی برآمدات میں اضافے کا انحصار مصنوعات کی مسابقت، سرحدی سہولت کاری، ادائیگی کے قابل عمل نظام اور تجارتی رکاوٹوں میں کمی پر ہے۔
تازہ اعدادوشمار اس وقت سامنے آئے ہیں جب حکومت برآمدات بڑھانے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ علاقائی تجارتی خسارے میں اضافہ اس ضرورت کو نمایاں کرتا ہے کہ درآمدی ضروریات کے ساتھ ساتھ قریبی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور برآمدی تنوع کو بہتر بنایا جائے۔
