اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 28 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی یومیہ قیمتوں میں ردوبدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 19 پیسے فی لیٹر کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 25 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق مقررہ یومیہ قیمت سازی کے نظام کے تحت ہوگا۔
تازہ فیصلے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 376 روپے 6 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 398 روپے 7 پیسے فی لیٹر فروخت ہوگا۔ دونوں بڑی مصنوعات کی قیمتوں میں مخالف سمت کی تبدیلی عالمی منڈی میں متعلقہ ایندھن کی قیمتوں، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور حکومتی ٹیکس و لیوی کے مجموعی اثر کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کے لیے زیادہ تواتر سے قیمتوں میں ردوبدل کا نظام اختیار کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی کی تبدیلیاں نسبتاً جلد مقامی صارفین تک منتقل ہوتی ہیں۔ اس نظام میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک ہی سمت میں جانا ضروری نہیں کیونکہ دونوں مصنوعات کی بین الاقوامی قیمت، فریٹ اور مقامی لاگت الگ ہو سکتی ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں کمی نجی گاڑیوں اور موٹر سائیکل استعمال کرنے والے صارفین کے لیے محدود ریلیف فراہم کرے گی، تاہم ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مال برداری، زرعی مشینری اور پبلک ٹرانسپورٹ کے بعض حصوں کی لاگت پر اثر ڈال سکتا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پاکستان میں سامان کی بین الاضلاعی نقل و حمل اور زرعی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی بالواسطہ طور پر دیگر اشیا کی ترسیلی لاگت سے بھی جڑی ہوتی ہے۔
عالمی تیل کی منڈی حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث اتار چڑھاؤ کا شکار رہی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی یا کمی پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کے درآمدی بل اور مقامی قیمتوں پر اثر ڈالتی ہے۔ حکومت کے لیے صارفین کو ریلیف، محصولات کے اہداف اور توانائی کی درآمدی لاگت کے درمیان توازن برقرار رکھنا مسلسل پالیسی چیلنج ہے۔
نئی قیمتیں صرف 28 اکتوبر کے مقررہ دورانیے کے لیے جاری کردہ تازہ ایڈجسٹمنٹ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یومیہ قیمت سازی کے تحت اگلی تبدیلی عالمی نرخوں اور متعلقہ حسابی عوامل کی بنیاد پر ہو سکتی ہے، اس لیے صارفین اور کاروباری اداروں کو ایندھن کی لاگت میں نسبتاً زیادہ متواتر تبدیلیوں کا سامنا رہنے کا امکان ہے۔
