بیجنگ: چین کے مرکزی بینک نے مالیاتی اداروں کے فارن ایکسچینج ڈپازٹس پر لازمی ریزرو کی شرح بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جسے مارکیٹ میں یوآن کی تیز قدر افزائی کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق پیپلز بینک آف چائنا نے کہا کہ فاریکس ڈپازٹ ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو کو 4 فیصد سے بڑھا کر 6 فیصد کیا جائے گا اور نئی شرح 15 نومبر سے نافذ ہوگی۔

ریزرو ریکوائرمنٹ بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ بینکوں کو اپنے غیر ملکی کرنسی ڈپازٹس کا زیادہ حصہ مرکزی بینک کے پاس رکھنا ہوگا۔ اس سے بینکاری نظام میں دستیاب غیر ملکی کرنسی کی مقدار متاثر ہو سکتی ہے اور بالواسطہ طور پر یوآن اور دیگر کرنسیوں کے درمیان طلب و رسد کا توازن بدل سکتا ہے۔ چین ماضی میں بھی کرنسی کی تیز یک طرفہ حرکت کو معتدل کرنے کے لیے اس پالیسی آلے کا استعمال کر چکا ہے۔

حالیہ عرصے میں یوآن کو مضبوطی ملی ہے، جس کے پیچھے ڈالر کی حرکات، چین سے متعلق سرمایہ کاری کے رجحانات اور عالمی مالیاتی حالات سمیت کئی عوامل کارفرما رہے ہیں۔ بہت تیزی سے مضبوط ہونے والی مقامی کرنسی برآمد کنندگان کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے کیونکہ بیرون ملک خریداروں کے لیے چینی مصنوعات نسبتاً مہنگی ہو جاتی ہیں۔ دوسری طرف مضبوط کرنسی درآمدی لاگت اور بیرونی قرضوں کے بعض بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

مرکزی بینک کا اعلان شرح سود میں تبدیلی نہیں ہے اور نہ ہی اسے یوآن کے لیے کسی مقررہ شرح مبادلہ کی ضمانت سمجھا جا سکتا ہے۔ چین ایک منظم فلوٹنگ ایکسچینج ریٹ نظام چلاتا ہے جس میں مرکزی بینک روزانہ ایک حوالہ شرح مقرر کرتا ہے اور مارکیٹ کو مخصوص حدود میں حرکت کی اجازت ہوتی ہے۔

مارکیٹ کے شرکا اب یہ دیکھیں گے کہ ریزرو شرح میں اضافے کے بعد بینکوں کی فاریکس لیکویڈیٹی اور یوآن کی رفتار میں کتنا فرق آتا ہے۔ اگر کرنسی پر یک طرفہ دباؤ برقرار رہا تو مرکزی بینک کے پاس روزانہ فکسنگ، لیکویڈیٹی آپریشنز اور دیگر میکرو پرڈینشل اقدامات سمیت مزید ذرائع موجود ہیں، تاہم کسی اضافی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

چینی پالیسی سازوں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ کرنسی میں ضرورت سے زیادہ اتار چڑھاؤ کو روکیں اور ساتھ ہی معیشت، برآمدات اور سرمایہ کے بہاؤ کے لیے مناسب مالی حالات برقرار رکھیں۔ نئی ریزرو شرح کا حقیقی اثر 15 نومبر کے بعد مارکیٹ کے ردعمل اور بینکوں کے فاریکس انتظام سے زیادہ واضح ہوگا۔