کراچی: پاکستان کی لسٹڈ فارماسیوٹیکل کمپنیوں نے مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی طور پر 11.6 ارب روپے منافع کمایا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 11 فیصد اور پچھلی سہ ماہی کے مقابلے میں 54 فیصد زیادہ ہے۔ ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق منافع میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں فروخت میں بہتری اور مجموعی منافع کے مارجن میں اضافہ شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا ستمبر سہ ماہی میں شعبے کی خالص فروخت 98.8 ارب روپے رہی، جو سالانہ بنیاد پر 5 فیصد اور سہ ماہی بنیاد پر 11 فیصد زیادہ ہے۔ ریسرچ ہاؤس نے اس اضافے کو قیمتوں اور فروخت کے حجم، دونوں میں بہتری سے جوڑا۔ یہ اضافہ اس کے باوجود ہوا کہ گزشتہ سال کی تقابلی مدت میں افغانستان کو برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن بھی شامل تھی، جبکہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 سے افغانستان کو فارما برآمدات معطل ہیں۔

شعبے کا مجموعی منافع مارجن 43.7 فیصد تک بہتر ہوا، جو گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی میں 41.9 فیصد اور گزشتہ سہ ماہی میں 42.8 فیصد تھا۔ کمپنیوں میں اے جی پی کا مجموعی مارجن 64.6 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ بتایا گیا، جبکہ سیئرل 57.2 فیصد اور ہائی نون لیبارٹریز 57.1 فیصد پر رہیں۔ فروخت میں ایبٹ لیبارٹریز پاکستان کا حصہ 21 فیصد، گلیکسو اسمتھ کلائن پاکستان 17 فیصد، سیئرل 11 فیصد اور ہیلون پاکستان 10 فیصد رہا۔

اخراجات کے محاذ پر سیلنگ اور ڈسٹری بیوشن اخراجات سالانہ 6 فیصد بڑھ کر 18.6 ارب روپے اور انتظامی اخراجات 14 فیصد بڑھ کر 3.6 ارب روپے ہوگئے۔ فنانس لاگت 22 فیصد سالانہ اور 44 فیصد سہ ماہی اضافے سے 1.1 ارب روپے رہی۔ دوسری جانب دیگر آمدن سالانہ 15 فیصد کم ہو کر 802 ملین روپے رہ گئی۔ شعبے کی مؤثر ٹیکس شرح 37.9 فیصد اور مجموعی ٹیکس چارج 7.1 ارب روپے رپورٹ کیا گیا۔

منافع میں بہتری کے باوجود لسٹڈ فارما شعبے کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن سالانہ بنیاد پر 24 فیصد کم ہو کر 505.2 ارب روپے رہی۔ ٹاپ لائن ریسرچ کے مطابق آنے والے عرصے میں کم تقابلی بنیاد، نئی مصنوعات کے اجرا اور سردیوں کی موسمی طلب سے فروخت کے حجم کو سہارا مل سکتا ہے۔ یہ تجزیاتی توقع ہے اور مستقبل کی حقیقی کارکردگی طلب، قیمتوں، لاگت اور ریگولیٹری حالات پر منحصر رہے گی۔