اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے 23 جنوری 2023 کے ملک گیر بجلی بریک ڈاؤن کے بعد سیف پاور لمیٹڈ کے جنریٹنگ یونٹس کی مبینہ تاخیر سے سنکرونائزیشن سے متعلق قانونی کارروائی بند کر دی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق نیپرا نے فائن ریگولیشنز 2021 کے تحت جاری کارروائی میں کمپنی کا جواب قبول کرتے ہوئے قرار دیا کہ معاملہ ریگولیٹری جرمانہ عائد کرنے کا متقاضی نہیں رہا۔

نیپرا کی انکوائری میں ابتدائی طور پر یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ ملک گیر بلیک آؤٹ کے بعد بجلی کی مکمل بحالی میں تقریباً 20 گھنٹے لگے۔ ریگولیٹری ریکارڈ کے مطابق سیف پاور کے بس بار پر سپلائی 23 جنوری کو رات 10 بج کر 35 منٹ پر بحال ہوئی۔ نیشنل پاور کنٹرول سینٹر نے بعد میں جی ٹی ون اور ایس ٹی جی یونٹس کو سنکرونائز کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

ابتدائی انکوائری نے جی ٹی ون کے معاملے میں دو گھنٹے چار منٹ اور ایس ٹی جی کے معاملے میں 18 منٹ کی تاخیر نوٹ کی تھی اور خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس سے بحالی کے عمل پر اثر پڑا۔ اسی بنیاد پر نیپرا نے متعلقہ قانونی اور گرڈ کوڈ دفعات کے تحت نفاذی کارروائی شروع کی۔ کمپنی کو ستمبر 2023 میں وضاحت اور دسمبر 2024 میں شوکاز نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

سیف پاور نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ سنکرونائزیشن سے متعلق ذمہ داریاں اس کے پاور پرچیز ایگریمنٹ کے تحت آتی ہیں اور مبینہ تاخیر پر معاہدے میں پہلے ہی تادیبی طریقہ موجود ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا کہ پاور پرچیزر کی جانب سے اس معاملے پر مالی اثر عائد کیے جانے کے بعد مزید جرمانہ دوہری سزا کے مترادف ہوگا۔ اس نے تاخیر کو خودکار اسٹارٹ اپ سیکوئنس اور نظام کی حفاظتی ضروریات سے بھی منسلک کیا۔

نیپرا نے کمپنی کو اگست 2025 میں سماعت کا موقع دیا اور دستیاب ریکارڈ، قانونی نکات اور متناسب ریگولیٹری کارروائی کے اصول کا جائزہ لیا۔ حتمی فیصلے میں اتھارٹی نے شوکاز نوٹس پر کمپنی کا جواب قبول کرتے ہوئے فائن ریگولیشنز کی متعلقہ شق کے تحت کارروائی بند کر دی۔ یہ فیصلہ کمپنی کے خلاف اسی مخصوص ریگولیٹری کارروائی کے اختتام کی نمائندگی کرتا ہے اور 2023 کے بلیک آؤٹ کے وسیع تر اسباب سے متعلق دیگر نتائج کو تبدیل نہیں کرتا۔