اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے سپر ٹیکس سے متعلق اپنے 27 جنوری کے فیصلے کے خلاف دائر متعدد نظرثانی درخواستوں پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ میں جسٹس سید حسن اظہر رضوی اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے۔ مقدمات میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4B اور 4C کے اطلاق اور خصوصاً ٹیکس کے سابقہ اثر سے نفاذ پر آئینی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
عدالت نے جنوری کے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پارلیمان آئین کے آرٹیکل 73(2)(a) کے تحت منی بل کے ذریعے ایسے ٹیکس کو عائد، ختم، معاف، تبدیل یا منظم کرنے کی قانون سازی کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد کھاد، توانائی، بینکاری، ادویات، تیل، چینی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی متعدد کمپنیوں نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں۔
درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا میں ڈاکٹر فروغ نسیم، خالد جاوید خان، سردار احمد جمال سکھیرا، راشد انور اور امتیاز علی صدیقی شامل تھے۔ وکیل سردار احمد جمال سکھیرا نے مؤقف اختیار کیا کہ دفعہ 4C کو غیر آئینی قرار دیا جائے کیونکہ ان کے مطابق سابقہ فیصلے میں اس شق کو برقرار رکھنے کی وجوہات کافی طور پر بیان نہیں کی گئیں۔ متبادل طور پر انہوں نے استدعا کی کہ اسے ٹیکس سال 2022 پر لاگو نہ کیا جائے اور حتمی ٹیکس کے دائرے میں آنے والی آمدن کو اس سے الگ رکھا جائے۔
درخواست گزاروں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ فنانس ایکٹ 2022 دو جولائی 2022 سے نافذ ہوا، جبکہ متعلقہ ٹیکس سال اس سے پہلے ختم ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق ایسی آمدن پر بعد میں نئی ٹیکس ذمہ داری عائد کرنا، جب کمپنیوں کے حسابات بند ہو چکے ہوں اور بعض صورتوں میں منافع تقسیم کیا جا چکا ہو، آئینی تحفظات سے متصادم ہے۔ یہ مؤقف درخواست گزاروں کا قانونی دعویٰ ہے اور عدالت نے ابھی اس پر حتمی فیصلہ نہیں سنایا۔
سپر ٹیکس 2015 میں متعارف کرایا گیا تھا اور مختلف ادوار میں اس کے دائرہ کار اور شرح میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ موجودہ تنازع میں بڑی کمپنیوں اور دیگر ٹیکس دہندگان کے لیے مالی اثرات کے ساتھ یہ اصولی سوال بھی شامل ہے کہ پارلیمان کس حد تک گزرے ہوئے ٹیکس عرصے پر نئی ذمہ داری عائد کر سکتی ہے۔
عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ کیے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی فریق کا مؤقف تسلیم یا مسترد کر دیا گیا ہے۔ حتمی حکم آنے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ جنوری کے فیصلے میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے یا اسے برقرار رکھا جاتا ہے، اور دفعہ 4C کے ٹیکس سال 2022 سمیت مختلف اقسام کی آمدن پر اطلاق کی قانونی حیثیت کیا ہوگی۔
