مسلسل اپ ڈیٹس

سپر ٹیکس — آئینی چیلنجز اور عدالتی کارروائی

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے جنوری کے سپر ٹیکس فیصلے کے خلاف مختلف کمپنیوں کی دائر کردہ متعدد نظرثانی درخواستوں پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا۔ درخواستوں میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعات 4B اور 4C کے اطلاق اور خاص طور پر ٹیکس کے سابقہ اثر (retrospective application) کے آئینی اعتراضات شامل تھے۔ عدالت نے جنوری کے فیصلے میں پارلیمان کو آرٹیکل 73(2)(a) کے تحت منی بل کے ذریعے ایسے ٹیکس نافذ کرنے کا اختیار قرار دیا تھا؛ اس کے بعد کھاد، توانائی، بینکاری، ادویات، تیل، چینی اور دیگر شعبوں کی متعدد کمپنیوں نے نظرثانی درخواستیں دائر کیں۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی کہ دفعہ 4C کو غیر آئینی قرار دیا جائے یا اسے ٹیکس سال 2022 پر نافذ نہ کیا جائے کیونکہ فنانس ایکٹ 2022 یکم جولائی 2022 سے نافذ ہوا جبکہ متعلقہ ٹیکس سال اس سے پہلے ختم ہو چکا تھا۔ عدالت کا فیصلہ محفوظ کرنا کسی موقف کی منظوری یا ردِ دعویٰ نہیں سمجھا جائے گا؛ حتمی حکم کے بعد ہی دفعہ 4C اور اس کے سابقہ اطلاق کی قانونی حیثیت واضح ہو گی۔

1 خبریںاہم موضوعآخری خبر:

خبروں کا تسلسل · تازہ ترین پہلے