پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں تیز اضافے نے کم آمدن والے صارفین، خصوصاً رکشہ اور چنگ چی چلانے والے ڈرائیوروں کے لیے روزمرہ اخراجات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 17 اکتوبر کو ایران کے ساتھ دو سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد ایل پی جی کی درآمد متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں مقامی منڈی میں رسد کم اور قیمتیں بلند ہوئیں۔

پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق سرحدی بندش سے پہلے ایران سے تقریباً سات ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی یومیہ پاکستان آ رہی تھی۔ تاجروں نے رائٹرز کو بتایا کہ بندش کے بعد 12 کلوگرام سلنڈر کی قیمت چند دنوں میں 56 فیصد بڑھ کر تقریباً سات ہزار روپے تک پہنچ گئی، جبکہ کھلی منڈی میں فی کلو قیمت تقریباً 583 روپے تک دیکھی گئی۔ یہ اعداد مختلف علاقوں اور فروخت کنندگان کے حساب سے بدل سکتے ہیں، تاہم رپورٹ رسد میں اچانک خلل اور قیمتوں کے شدید دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔

لاہور کی عوامی رکشہ یونین کے چیئرمین مجید غوری کے مطابق یونین سے وابستہ تقریباً 43 ہزار رکشوں اور آٹھ ہزار کے قریب چنگ چی گاڑیوں میں بڑی تعداد ایل پی جی استعمال کرتی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 70 فیصد متعلقہ گاڑیاں اسی ایندھن پر چلتی ہیں۔ قیمت بڑھنے سے ڈرائیوروں کی فی سفر لاگت بڑھی ہے، مگر مسافر زیادہ کرایہ دینے سے گریز کرتے ہیں، جس سے ڈرائیوروں کی خالص یومیہ آمدن دباؤ میں آ گئی ہے۔

رائٹرز نے لاہور کے رکشہ ڈرائیور راشد علی کی مثال دی، جن کے مطابق وہ پہلے روزانہ تقریباً 6.50 ڈالر کے مساوی آمدن حاصل کر لیتے تھے، لیکن اب یہ رقم نصف سے بھی کم رہ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی کا یومیہ کرایہ، متعدد مرتبہ گیس بھروانے کی لاگت اور گھر کے اخراجات ادا کرنے کے بعد خاندان نے کھانے میں بھی کمی کی ہے۔ یہ ایک فرد کا بیان ہے، اس لیے اسے پورے شعبے کی اوسط آمدن نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم یونین کے اعداد اور قیمتوں میں اضافے کے ساتھ یہ صورت حال کم آمدن والے ٹرانسپورٹ کارکنوں پر بڑھتے دباؤ کی مثال پیش کرتی ہے۔

سرحدی بندش کی وجہ پر بھی مختلف موقف سامنے آئے ہیں۔ بلوچستان حکام نے سکیورٹی اور اسمگلنگ کے مسائل کا حوالہ دیا، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے تکنیکی اور درآمدی کاغذی کارروائی سے متعلق مختلف وضاحتیں سامنے آئیں۔ ایران کے سفیر نے بعد میں کہا کہ تہران نے ایل پی جی برآمد پر پابندی عائد نہیں کی۔ اس اختلاف کے باعث رسد میں خلل کی مکمل ذمہ داری کسی ایک فریق پر حتمی طور پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

ایل پی جی کی مہنگائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں اکتوبر کی صارف مہنگائی 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ایندھن کی بلند قیمتیں ٹرانسپورٹ، گھریلو توانائی اور چھوٹے کاروباروں کے اخراجات کو متاثر کر سکتی ہیں۔ اگر سرحدی تجارت اور درآمدی رسد معمول پر آنے میں مزید تاخیر ہوئی تو ایل پی جی استعمال کرنے والے گھرانوں اور ٹرانسپورٹ کارکنوں پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔