کراچی: پایونیر سیمنٹ لمیٹڈ نے پنجاب کے ضلع خوشاب میں اپنے چنکی مینوفیکچرنگ پلانٹ پر 28.265 میگاواٹ کا سولر پاور منصوبہ مکمل کرکے فعال کر دیا ہے۔ کمپنی نے یہ پیش رفت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری نوٹس میں بتائی۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق منصوبے کی مجموعی گنجائش بعد میں بڑھا کر 31 میگاواٹ کر دی گئی ہے اور اضافی صلاحیت اگلے ایک ماہ کے اندر فعال کیے جانے کی توقع ہے۔

کمپنی کے مطابق سولر منصوبے کے فعال ہونے کے بعد ماحول دوست بجلی کے ذرائع اس کی سالانہ توانائی ضروریات کا تقریباً 45 فیصد پورا کر سکیں گے۔ پایونیر سیمنٹ کا کہنا ہے کہ اس سرمایہ کاری سے بجلی کی لاگت میں نمایاں کمی، آپریشنل کارکردگی میں بہتری اور منافع و پائیداری کے اہداف میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ یہ کمپنی کی جانب سے بیان کردہ متوقع اثرات ہیں اور ان کے حتمی مالی نتائج آئندہ رپورٹنگ ادوار میں سامنے آئیں گے۔

سیمنٹ سازی پاکستان کی توانائی زیادہ استعمال کرنے والی صنعتوں میں شامل ہے، اس لیے بجلی اور ایندھن کی لاگت کمپنیوں کے پیداواری اخراجات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد صنعتی اداروں نے گرڈ بجلی پر انحصار اور لاگت کم کرنے کے لیے شمسی توانائی سمیت متبادل ذرائع میں سرمایہ کاری بڑھائی ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستان میں نصب شمسی صلاحیت 2021 میں 321 میگاواٹ سے بڑھ کر دسمبر 2024 تک 4,124 میگاواٹ ہو گئی تھی۔ ملک میں چینی سولر پینلز کی درآمد بھی تیزی سے بڑھی اور 2024 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 13 گیگاواٹ پینلز درآمد ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ بعد کے برسوں میں بھی صنعت اور گھریلو صارفین کی جانب سے شمسی توانائی کی طرف منتقلی جاری رہی۔

شمسی بجلی کے تیز پھیلاؤ سے صارفین اور صنعتوں کو لاگت اور توانائی کے متبادل ذرائع مل رہے ہیں، تاہم گرڈ سے طلب میں کمی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور روایتی پاور پلانٹس کے مالی ماڈل کے لیے نئے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ پایونیر سیمنٹ کا منصوبہ اسی وسیع صنعتی رجحان کا حصہ ہے، جبکہ اس مخصوص منصوبے کی اضافی گنجائش مکمل ہونے کے بعد کمپنی کے پلانٹ میں شمسی بجلی کا حصہ مزید واضح ہوگا۔