چین اور امریکا نے باہمی تجارت کے ایک نئے انتظام کے تحت مجموعی طور پر 60 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر ٹیرف میں کمی کی سمت پیش رفت کی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک نے 30، 30 ارب ڈالر کی غیر حساس تجارتی اشیا کی فہرستیں تیار کی ہیں جنہیں نسبتاً سازگار ٹیرف سلوک دیا جائے گا۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق امریکا کی جانب سے منتخب کی گئی فہرست چین کو ہونے والی امریکی برآمدات کے ایک قابل ذکر حصے کے لیے بہتر مارکیٹ رسائی پیدا کرے گی۔ چینی فہرست میں امریکی زرعی مصنوعات، جن میں مکئی، گندم، سورغم، گوشت، ڈیری مصنوعات، سبزیاتی تیل اور بعض دیگر اشیا شامل ہیں، پر درآمدی محصولات میں کمی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اس فہرست میں سویا بین شامل نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین امریکی مچھلی اور سمندری خوراک، لکڑی اور لاگز، کاسمیٹکس اور طبی آلات پر بھی محصولات کم کرنے پر غور کرے گا۔ دوسری جانب امریکا نے چینی چھوٹے گھریلو آلات، جیسے کافی میکر اور ٹوسٹر، میز و بستر کی مصنوعات، کھلونوں، بعض تہوار سے متعلق اشیا اور بچوں کی کار سیٹوں کو رعایتی ٹیرف فہرست میں شامل کیا ہے۔
یہ پیش رفت امریکا اور چین کے درمیان حالیہ سربراہی رابطوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن میں تجارتی کشیدگی کم کرنے اور مخصوص شعبوں میں باہمی مارکیٹ رسائی بڑھانے پر توجہ دی گئی۔ دونوں جانب سے ٹیرف میں کمی کے ساتھ موجودہ تجارتی جنگ بندی میں بھی دو ماہ کی توسیع کی گئی ہے اور اب یہ 10 جنوری تک برقرار رہے گی۔
چین کی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع دونوں ممالک کو موجودہ انتظامات کا جائزہ لینے اور وسیع تر اقتصادی و تجارتی تنازعات پر مزید بات چیت کے لیے وقت دے گی۔ یہ پیش رفت کسی جامع آزاد تجارتی معاہدے کے مترادف نہیں، بلکہ مخصوص غیر حساس مصنوعات پر محدود اور باہمی رعایتوں کا انتظام ہے۔
دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ٹیرف میں کمی عالمی سپلائی چینز، زرعی تجارت، صارفین کی قیمتوں اور مینوفیکچرنگ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ تاہم عملی اثر اس بات پر منحصر ہوگا کہ حتمی فہرستیں کس رفتار سے نافذ ہوتی ہیں، کس سطح تک محصولات کم کیے جاتے ہیں اور آیا دونوں فریق جنگ بندی کے بعد بھی مذاکراتی عمل کو برقرار رکھتے ہیں۔ فی الحال اعلان کردہ فریم ورک کشیدگی میں محدود کمی اور مذاکرات کے لیے اضافی گنجائش فراہم کرتا ہے۔

