اسلام آباد: چینی کمپنی جیانگسو انکورا انٹیلی جنٹ الیکٹرک کمپنی لمیٹڈ نے سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) کے چار گرڈ اسٹیشنوں کی استعداد بڑھانے کے لیے 11.728 ملین ڈالر مالیت کا معاہدہ حاصل کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق یہ کام ایشیائی ترقیاتی بینک کے 40 ملین ڈالر کے بجلی کے منصوبے کا حصہ ہے اور اس کا مقصد سندھ میں ترسیلی و تقسیمی نظام کی صلاحیت اور قابلِ اعتماد کارکردگی بہتر بنانا ہے۔

منصوبے کے تحت رادھن، تھری میر واہ، نارا ٹو اور پڈعیدن کے موجودہ 66 کے وی گرڈ اسٹیشنوں کو 132 کے وی میں تبدیل کیا جائے گا۔ پراجیکٹ دستاویزات کے مطابق معاہدہ 4 فروری 2026 کو پیکیج SEPCO-EPC-001 کے تحت طے پایا۔ مجموعی معاہدے میں 6.612 ملین ڈالر کے ساتھ 1 ارب 43 کروڑ 24 لاکھ 44 ہزار روپے کا مقامی کرنسی حصہ بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے اور غیر ملکی کرنسی والے حصے کی ایڈوانس ادائیگی جاری کی جا چکی ہے۔ لیٹر آف کریڈٹ کی کارروائی، ڈیزائن جمع کرانے اور مٹی کی تکنیکی جانچ سمیت ابتدائی مراحل بھی جاری ہیں۔ تاہم چاروں گرڈ اسٹیشنوں کی اپ گریڈیشن مکمل ہونے یا انہیں نئے وولٹیج پر باقاعدہ فعال کیے جانے کی اطلاع ابھی نہیں دی گئی۔

یہ کام اے ڈی بی قرض نمبر 4567-PAK کے تحت سیپکو کے وسیع تر سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہے۔ پروگرام میں بجلی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے 1,200 ایڈوانسڈ پاور مینجمنٹ سسٹم یونٹس کی خریداری، 50 ہزار یونٹس پر مشتمل ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر منصوبہ اور 40 عدد 11 کے وی فیڈرز کی تقسیم بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ گرڈ اسٹیشن جزو کے لیے پراجیکٹ امپلی مینٹیشن کنسلٹنسی اور اے ایم آئی، اے پی ایم ایس اور 11 کے وی فیڈر منصوبوں کے لیے الگ مشاورتی خدمات بھی پروگرام میں شامل ہیں۔

چار گرڈ اسٹیشنوں کو 66 کے وی سے 132 کے وی پر منتقل کرنے کا مقصد سیپکو نیٹ ورک کی گنجائش اور استحکام بڑھانا ہے۔ منصوبے کی پیش رفت کے اگلے مراحل میں ڈیزائن، مالی و تکنیکی انتظامات اور عملی تعمیر و تنصیب کی تکمیل اہم ہوگی، جس کے بعد ہی صارفین کے لیے اس کے مکمل عملی اثرات کا اندازہ کیا جا سکے گا۔