اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انٹیگریٹڈ سسٹم پلان 2025 کی مشروط منظوری دے دی ہے، جس کے تحت 2025 سے 2035 کے دوران بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے شعبوں میں تقریباً 58 ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ ریگولیٹر کے 45 صفحات پر مشتمل فیصلے میں تینوں ارکان، جن میں چیئرمین بھی شامل ہیں، نے متعدد تحفظات اور الگ مشاورتی نوٹس ریکارڈ کرائے ہیں۔
نیپرا کے فیصلے کے مطابق انٹیگریٹڈ سسٹم پلان کو نظرثانی شدہ بنیادی یا تجویز کردہ کیس کی حد تک منظور کیا گیا ہے، جبکہ 2028 میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم اور کے الیکٹرک کی ایک مخصوص ٹرانسمیشن لائن کو فی الحال اس منظوری سے خارج رکھا گیا ہے۔ ریگولیٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ پاور ڈویژن کے ماتحت اداروں، انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر اور پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے بعض مؤقف ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
فیصلے میں خاص طور پر اس بات پر اعتراض کیا گیا کہ قومی بجلی پالیسی یا قومی بجلی پلان سے متعلق تبدیلیاں تکنیکی کمیٹی یا پاور ڈویژن کی سطح پر اس طرح نہیں کی جا سکتیں کہ مشترکہ مفادات کونسل سے دوبارہ رجوع ہی نہ کیا جائے۔ نیپرا نے بڑے منصوبوں کے شامل یا خارج کیے جانے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھائے اور کہا کہ آئینی اور پالیسی سطح کے معاملات میں سی سی آئی کے کردار کو نظر انداز نہیں ہونا چاہیے۔
منصوبے میں بجلی کی طلب کے تین بڑے منظرنامے رکھے گئے ہیں: زیادہ نمو، درمیانی نمو اور کم نمو۔ کم نمو والے منظرنامے کو کاروبار حسب معمول کی بنیاد بنا کر پیداواری توسیع کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس کے تحت 26 ہزار میگاواٹ سے زیادہ نئی صلاحیت شامل کرنے اور تقریباً 2,577 میگاواٹ پرانی صلاحیت ریٹائر کرنے کی تجویز ہے، جس سے مجموعی نصب شدہ صلاحیت 62 ہزار 657 میگاواٹ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ اس میں نیٹ میٹرنگ کے ذریعے تقریباً 8,120 میگاواٹ بھی شامل ہیں۔
نیپرا کے مطابق نئی پیداواری صلاحیت پر تقریباً 47.08 ارب ڈالر لاگت متوقع ہے۔ اس کے ساتھ جاری اور طے شدہ ٹرانسمیشن منصوبوں کے لیے تقریباً 4.6 ارب ڈالر اور نئی ٹرانسمیشن توسیع کے لیے مزید 6.05 ارب ڈالر درکار ہوں گے، یوں ٹرانسمیشن سرمایہ کاری کا مجموعی تخمینہ تقریباً 10.65 ارب ڈالر بنتا ہے۔ ان منصوبوں میں بجلی کے اخراج کے نظام، اضافی ہائی وولٹیج سب اسٹیشنز، ٹرانسفارمر اپ گریڈیشن اور وولٹیج کنٹرول سہولیات شامل ہیں۔
علاقائی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث ایران سے بجلی کی درآمد میں رکاوٹ کو بھی منصوبے میں مدنظر رکھا گیا ہے۔ اسی تناظر میں گوادر اور مکران کے لیے 40 میگاواٹ کے آن سائٹ پاور پلان کی گنجائش رکھی گئی ہے، کیونکہ فی الحال قومی گرڈ کی توسیع کو تکنیکی اور اقتصادی طور پر موزوں نہیں سمجھا جا رہا۔
نیپرا نے 900 ملین ڈالر مالیت کے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کی سرمایہ کاری کو مکمل تکنیکی و اقتصادی مطالعے سے مشروط کر دیا ہے۔ ریگولیٹر نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ منصوبے کے صارفین کے آخری ٹیرف پر ممکنہ اثر کو واضح طور پر مقداری شکل میں مرکزی رپورٹ کا حصہ بنایا جائے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے تخمینے کے مطابق بنیادی صارف ٹیرف 2035 تک 37.28 روپے فی یونٹ تک جا سکتا ہے، جو 2024-25 میں 34 روپے فی یونٹ بتایا گیا تھا۔




