چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ورلڈ ہیومنائیڈ روبوٹ گیمز کے دوران ایک انسان نما روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ 9.39 سیکنڈ میں مکمل کرکے اپنے ابتدائی مرحلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ ڈان، رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی 22 اور 23 اگست کی رپورٹس کے مطابق تیانگونگ الٹرا نامی روبوٹ کو بیجنگ ہیومنائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر نے تیار کیا ہے۔ منتظمین کے مطابق روبوٹ ابتدا میں پیچھے رہ گیا تھا لیکن آخری حصے میں رفتار بڑھا کر حریف لائٹننگ سے آگے نکل گیا۔
مقابلے میں لائٹننگ نے 9.47 سیکنڈ کا وقت لیا۔ اس سے قبل تیاری کے ایک تجربے میں اسی نام کے روبوٹ نے 100 میٹر 9.32 سیکنڈ میں مکمل کیے اور 14.5 میٹر فی سیکنڈ کی بلند ترین رفتار ریکارڈ کی تھی۔ انسانی ایتھلیٹکس میں یوسین بولٹ کا 9.58 سیکنڈ کا عالمی ریکارڈ الگ قواعد، ٹریک اور انسانی مقابلے کے تحت قائم ہوا تھا، اس لیے روبوٹ کے وقت کو انسانی ایتھلیٹکس کا سرکاری ریکارڈ ختم ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ تقابل صرف مشینی رفتار کی حالیہ پیش رفت واضح کرتا ہے۔
تیانگونگ الٹرا کی کارکردگی گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری دکھاتی ہے۔ ڈان کے مطابق اسی روبوٹ نے پچھلے مقابلوں میں 100 میٹر 21.50 سیکنڈ میں مکمل کیے تھے اور اس سے قبل دنیا کی پہلی ہیومنائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن بھی جیتی تھی۔ لائٹننگ نے حالیہ ہاف میراتھن 50 منٹ 26 سیکنڈ میں مکمل کی۔ انجینئروں نے گیمز سے پہلے اس کی ٹانگوں کی لمبائی 10 سینٹی میٹر بڑھا کر 1.05 میٹر کردی تھی تاکہ رفتار اور قدموں کی کارکردگی بہتر بنائی جاسکے۔
اس سال گیمز میں 16 ممالک اور چھ براعظموں کی 666 ٹیموں کے 2,056 روبوٹ شریک ہیں۔ مجموعی طور پر 51 مقابلے رکھے گئے ہیں جن میں دوڑ، فٹ بال، رقص اور صنعتی نوعیت کے کام شامل ہیں۔ یہ تعداد پچھلے سال کے 280 ٹیموں والے افتتاحی مقابلے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے اور روبوٹکس کی تیز تجارتی و تحقیقی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔
چین ہیومنائیڈ روبوٹکس کو ابھرتی ہوئی تزویراتی صنعت سمجھتا ہے اور مینوفیکچرنگ، گوداموں، رسد اور صارفین کے لیے مشینوں کے استعمال پر سرمایہ کاری کررہا ہے۔ بیجنگ کے مقابلے کسی حقیقی صنعتی ماحول کا متبادل نہیں، کیونکہ فیکٹری یا گھر میں روبوٹ کو رفتار کے ساتھ حفاظت، توانائی کی بچت، مسلسل کام اور غیر متوقع حالات سے نمٹنے کی صلاحیت بھی درکار ہوتی ہے۔ 9.39 سیکنڈ کا نتیجہ اس سمت میں نمایاں تکنیکی مظاہرہ ہے، لیکن اس سے عملی استعمال کی تمام رکاوٹیں ختم نہیں ہوتیں۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




