گلگت: پاکستان خنجراب پاس کے راستے گلگت بلتستان آنے والے چینی سیاحوں کے لیے خصوصی ویزا آن ارائیول انتظام متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے۔ زیرِ غور تجویز کے مطابق پہلے مرحلے میں ہنزہ اور نگر اضلاع کو پائلٹ بنیادوں پر شامل کیا جائے گا، جبکہ کامیاب تجربے کی صورت میں سہولت کو پورے گلگت بلتستان تک توسیع دی جاسکتی ہے۔ یہ منصوبہ ابھی حتمی طور پر منظور نہیں ہوا اور متعلقہ وفاقی وزارتوں اور اعلیٰ حکام کی منظوری درکار ہے۔

دستیاب دستاویزات کے مطابق 15 ستمبر کو وزیر اعظم آفس میں قائم خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے سیکریٹریٹ میں ’’چینی سیاحوں کے لیے سوست میں ویزا آن ارائیول سہولت کی بحالی‘‘ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کے محکمہ داخلہ اور سیاحت، پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن، بین الصوبائی رابطہ، داخلہ اور خارجہ امور کی وزارتوں، پاکستان ایسوسی ایشن آف ٹور آپریٹرز اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے منٹس کے مطابق وزارت خارجہ نے اصولی طور پر تجویز پر اعتراض نہیں کیا، تاہم اسے سکیورٹی کلیئرنس سے مشروط قرار دیا۔ وزارت داخلہ نے نشاندہی کی کہ ویزا آن ارائیول سہولت سکیورٹی خدشات کے بعد تمام ممالک کے لیے معطل کی گئی تھی، اس لیے چینی شہریوں کے لیے کوئی خصوصی استثنا اسی سطح کی منظوری کا متقاضی ہوگا جہاں سابقہ پالیسی فیصلہ ہوا تھا۔ اسی وجہ سے موجودہ تجویز کو حتمی سرکاری پالیسی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

گلگت بلتستان کے حکام اور سیاحتی شعبے کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ہنزہ اور نگر میں سیاحت کا بنیادی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے اور چینی سیاحوں کی آمد سے مقامی کاروبار، روزگار اور سرحد پار اقتصادی سرگرمی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ گلگت بلتستان حکومت نے سیاحوں کے لیے ضروری حفاظتی انتظامات فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

اجلاس میں ویزا اور این او سی کے طریقہ کار کو آسان بنانے کی تجویز بھی سامنے آئی۔ بین الصوبائی رابطہ کی وزارت نے ایک واحد آن لائن پورٹل کی سفارش کی، جبکہ گلگت بلتستان کا محکمہ داخلہ سوست میں موجود کثیر مرحلہ پولیس کلیئرنس کے بجائے زیادہ مؤثر ون ونڈو نظام پر غور کرے گا۔ ایس آئی ایف سی نے گلگت بلتستان حکومت سے تفصیلی تجویز طلب کی ہے، جس کے بعد معاملہ متعلقہ وفاقی وزارتوں اور پھر اعلیٰ حکام کو حتمی فیصلے کے لیے بھیجا جائے گا۔