کٹھمنڈو: نیپال میں تباہ کن سیلاب اور مٹی کے ریلے کے دس روز بعد امدادی ٹیموں نے ایک چینی شہری کو پن بجلی منصوبے کی ملبے سے دبی سرنگ کے اندر سے زندہ نکال لیا ہے۔ نیپالی فوج کے مطابق یہ کارروائی رسووا ضلع میں اپر تریشولی-1 ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی آڈٹ ٹنل نمبر 4 میں کی گئی، جہاں متاثرہ شخص سرنگ کے دہانے سے تقریباً 225 میٹر اندر موجود تھا۔
نیپالی فوج اور غیر ملکی ماہرین پر مشتمل مشترکہ ٹیم نے ہفتہ 5 ستمبر کو کارکن کو باہر نکالا۔ فوج نے اس کی شناخت صرف ”لوہائی تاؤ“ کے نام سے جاری کی۔ سرکاری تصویر میں وہ ہوش میں اور امدادی اہلکاروں کے سہارے چلتا دکھائی دیا، جبکہ اس کے ہاتھ گاڑھے کیچڑ سے ڈھکے ہوئے تھے۔ فوج نے کہا کہ اس کی طبی حالت کا معائنہ جاری ہے؛ فوری بیان میں مکمل تشخیص، چوٹوں یا ہسپتال میں داخلے کی تفصیل نہیں دی گئی۔
یہ شخص ان سیکڑوں پن بجلی کارکنوں میں شامل تھا جو 26 اگست کو چین-نیپال سرحدی علاقے میں بڑے برفانی اور چٹانی تودے کے بعد آنے والے پانی اور مٹی کے شدید ریلے میں لاپتا ہوگئے تھے۔ سیلاب نے وادیوں، تعمیراتی مقامات اور سرنگوں کو ملبے سے بھر دیا، جس سے تلاش اور رسائی انتہائی مشکل ہوگئی۔ زندہ بازیابی کو طویل سرچ آپریشن میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے، مگر یہ تمام لاپتا افراد کی حالت کے بارے میں نتیجہ فراہم نہیں کرتی۔
نیپالی فوج کے مطابق تلاش اور امدادی کارروائیاں اب بھی مختلف مقامات پر جاری ہیں۔ ایک روز پہلے تریشولی 3A منصوبے کی سرنگ سے دو نیپالی پن بجلی کارکن بھی زندہ نکالے گئے تھے۔ حکام نے کم از کم 12 پن بجلی منصوبوں کے سیلاب سے تباہ ہونے کی اطلاع دی ہے، جس سے نہ صرف کارکنوں کی جانوں بلکہ بجلی کے بنیادی ڈھانچے، مقامی راستوں اور تعمیراتی رسد کو بھی وسیع نقصان پہنچا۔
نیپال کے قومی آفات ادارے نے اب تک ملک میں 1,344 لاشیں ملنے اور تقریباً 5,000 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی ہے۔ چین کے سرکاری ذرائع کے مطابق سرحد کے دوسری جانب 31 افراد ہلاک اور 531 لاپتا ہیں۔ ان اعداد کو ملا کر رپورٹنگ کے وقت مجموعی ہلاکتیں 1,375 اور لاپتا افراد کی تعداد 5,500 سے زیادہ بنتی ہے۔ تلاش جاری ہونے، دور افتادہ علاقوں تک تاخیر سے رسائی اور شناختی عمل کے باعث یہ تعداد تبدیل ہوسکتی ہے۔
سیلاب کو ایک وسیع برفانی و چٹانی انہدام کے بعد پیدا ہونے والی غیر معمولی آبی لہر سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم دستیاب خبر میں مکمل ارضیاتی تحقیقات، موسمیاتی نسبت یا انجینیئرنگ ناکامی کا حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے کسی ایک سبب کو قطعی طور پر ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا؛ متعلقہ ماہرین کو برفانی جھیلوں، چٹانی ساخت، بارش، درجۂ حرارت اور تعمیراتی خطرات کے مشترکہ اثرات کا جائزہ لینا ہوگا۔
اپر تریشولی-1 کے کارکن کی بازیابی سے امید بڑھی ہے کہ ملبے اور بند سرنگوں میں مزید زندہ افراد مل سکتے ہیں، مگر امدادی اداروں نے کوئی حتمی اندازہ نہیں دیا۔ ترجیح سرنگوں کی محفوظ تلاشی، ہوا اور پانی کی دستیابی کی جانچ، طبی امداد اور لاپتا کارکنوں کی فہرستوں کی تصدیق ہے۔ موجودہ تصدیق شدہ نتیجہ ایک چینی شہری کی زندہ بازیابی اور سرچ آپریشن کے جاری رہنے تک محدود ہے۔




