عالمی موسمیاتی ادارے، ڈبلیو ایم او، نے کہا ہے کہ بحرالکاہل میں قائم ال نینو آئندہ مہینوں کے دوران مزید مضبوط ہوکر ’’بہت شدید‘‘ سطح تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ اس کے فروری 2027 تک برقرار رہنے کا امکان تقریباً 100 فیصد بتایا گیا ہے۔ جنیوا سے 3 ستمبر 2026 کو جاری سرکاری اپ ڈیٹ کے مطابق اس موسمی رجحان سے دنیا کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت اور بارش کے عمومی نقشوں میں بڑی تبدیلی اور سیلاب، خشک سالی یا شدید گرمی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
ڈبلیو ایم او کے عالمی موسمی پیش گوئی مراکز کے ماڈلز میں اس بات پر غیر معمولی اتفاق پایا گیا ہے کہ ال نینو کم از کم شمالی نصف کرے کی 2026-27 کی سردیوں کے اہم حصے تک جاری رہے گا۔ ادارے کے مطابق موجودہ واقعہ سال کے اختتام کے قریب عروج پر پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس کے آب و ہوا پر اثرات 2027 میں بھی جاری رہ سکتے ہیں۔ یہ موسمیاتی امکان ہے، کسی مخصوص ملک میں طے شدہ آفت یا لازمی نقصان کی پیش گوئی نہیں۔
ال نینو خطِ استوا کے قریب وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کے سطحی پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے سے منسلک قدرتی موسمی نظام ہے۔ ڈبلیو ایم او کے اعداد کے مطابق نینو 3.4 خطے میں سطح سمندر کے درجہ حرارت کا اوسط فرق مئی سے جولائی 2026 کے دوران معمول سے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا اور جولائی میں 2 ڈگری تک پہنچا۔ جولائی کے اختتام سے اگست کے وسط تک ہفتہ وار پیمائشیں تقریباً 2.2 سے 2.6 ڈگری زیادہ رہیں، جو مسلسل شدت کی علامت ہیں۔
سمندر کی سطح کے نیچے بعض علاقوں میں جولائی اور اگست کے آغاز کے دوران پانی کا درجہ حرارت معمول سے 8 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ ادارے کے مطابق سطح اور زیرِ سطح دونوں جگہ غیر معمولی حرارت آئندہ مہینوں میں ال نینو کو مزید توانائی فراہم کرسکتی ہے۔ یہ اعداد مخصوص بحرالکاہلی خطوں کی بے قاعدگی ظاہر کرتے ہیں؛ انہیں دنیا یا پاکستان کے عمومی درجہ حرارت میں اتنے ہی اضافے کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔
ڈبلیو ایم او نے خاص طور پر خبردار کیا ہے کہ بہت شدید ال نینو کا مطلب ہر خطے میں ایک جیسے یا لازماً زیادہ تباہ کن اثرات نہیں۔ کسی ملک میں بارش، گرمی یا خشک سالی کی شدت مقام، موسم اور بحر ہند و بحر اوقیانوس سمیت دوسرے موسمی عوامل سے بدل سکتی ہے۔ اسی لیے عالمی ال نینو اپ ڈیٹ کو مقامی روزانہ یا موسمی پیش گوئی کا متبادل نہیں سمجھا جاسکتا۔ پاکستان سے متعلق عملی انتباہ اور علاقائی امکان پاکستان محکمہ موسمیات اور متعلقہ قومی اداروں کے اعلانات سے طے ہوگا۔
ستمبر سے نومبر 2026 کے لیے عالمی کثیر ماڈلی پیش گوئی میں تقریباً تمام زمینی خطوں میں معمول سے بلند درجہ حرارت کا امکان بڑھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ بارش کے نقشے میں بعض علاقوں میں زیادہ بارش اور سیلاب کا خطرہ جبکہ دوسروں میں کم بارش اور خشک سالی کا امکان ہوسکتا ہے۔ ادارے نے مثبت انڈین اوشن ڈائپول بننے کی توقع بھی ظاہر کی ہے، جو جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے گرد ال نینو کے عمومی اثرات کو مضبوط، کمزور یا تبدیل کرسکتا ہے۔
ال نینو عموماً ہر دو سے سات سال بعد سامنے آتا اور تقریباً نو سے بارہ ماہ رہ سکتا ہے۔ یہ قدرتی موسمی رجحان ہے اور ڈبلیو ایم او کے مطابق اسے موسمیاتی تبدیلی پیدا نہیں کرتی۔ تاہم پہلے سے گرم عالمی ماحول اور سمندر کے باعث شدید گرمی، بارش اور دیگر موسمی خطرات کے مجموعی نتائج زیادہ سنگین ہوسکتے ہیں۔ دونوں عوامل کو ایک ہی چیز سمجھنے کے بجائے ان کے باہمی اثر کا سائنسی جائزہ ضروری ہے۔
ڈبلیو ایم او نے قومی موسمیاتی و آبی اداروں، آفات سے نمٹنے والے محکموں، انسانی امداد کے اداروں اور زراعت، صحت، توانائی و آبی وسائل کے شعبوں کو پیشگی تیاری بڑھانے پر زور دیا ہے۔ موسمی پیش گوئی ممکنہ خطرے کے لیے وقت فراہم کرتی ہے، لیکن مؤثر تحفظ کا انحصار مقامی انتباہ، پانی و فصلوں کی منصوبہ بندی، صحت کی تیاری اور خطرے سے دوچار آبادی تک معلومات پہنچانے پر ہوگا۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت ال نینو کا قائم ہونا، اس کے مزید شدت اختیار کرنے کی WMO پیش گوئی اور فروری 2027 تک برقرار رہنے کا تقریباً یقینی امکان ہے۔ کسی مخصوص پاکستانی شہر، فصل یا دریا کے لیے حتمی اثر اس عالمی اپ ڈیٹ سے اخذ نہیں کیا جاسکتا اور اس کے لیے قومی و علاقائی پیش گوئیوں کی مسلسل نگرانی ضروری ہوگی۔




